برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے پیر کے روز دو ٹوک الفاظ میں اعادہ کیا ہے کہ برطانیہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں کسی صورت فریق نہیں بنے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کے تمام فیصلے ملکی مفاد کے تابع ہیں اور وہ برطانیہ کو اس جنگ میں دھکیلے جانے سے بچانے کے لیے پرعزم ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں سٹارمر نے کہا کہ وہ ایسے فیصلے کرنے کے پابند ہیں جو قومی مفاد میں ہوں، یہی وجہ ہے کہ برطانیہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی میں شامل نہیں ہو رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت عوام کے معیارِ زندگی کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے اور اپوزیشن کی جانب سے معاشرے کو تقسیم کرنے کے برعکس، لیبر پارٹی کی حکومت امید اور فخر کے ساتھ جواب دے رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ پالیسیوں میں واضح اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ ان پر اپنا موقف تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، تاہم وہ اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔ سٹارمر نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ دباؤ کے باوجود وہ اپنا ارادہ بدلنے والے نہیں ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیشِ نظر برطانوی وزیراعظم منگل کو کوبرا کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کریں گے، جبکہ آج وہ توانائی کے شعبے کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بھی ایک مشاورتی نشست کریں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب برطانیہ اور امریکا کے مابین تعلقات میں تناؤ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی صدر نے برطانیہ کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر ابتدائی حملے کے لیے برطانوی فوجی اڈوں تک رسائی نہ دینے پر تنقید کی تھی۔ اگرچہ بعد ازاں برطانیہ نے دفاعی کارروائی کے لیے سہولت فراہم کی، لیکن سٹارمر نے واضح کیا کہ برطانیہ ایران کے خلاف براہِ راست جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد سے خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ اس کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت 19 سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جواب میں ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون اور میزائل حملوں نے اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جس سے نہ صرف جانی و مالی نقصان ہوا ہے بلکہ عالمی منڈیوں اور ہوابازی کا نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے۔
