اسرائیل کے شہر حیفہ میں واقع آئل ریفائنری میں پیر کے روز ایک بڑے دھماکے کے بعد شدید آگ بھڑک اٹھی۔ اسرائیلی فائر اینڈ ریسکیو سروس کے مطابق یہ واقعہ ایک میزائل کو فضا میں مار گرانے کے بعد گرنے والے ملبے کے باعث پیش آیا۔
ٹیلی ویژن فوٹیج میں ریفائنری کے مقام سے سیاہ دھوئیں کے بادل آسمان کی جانب اٹھتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ فائر سروس نے تصدیق کی ہے کہ آگ تین ہزار کیوبک میٹر گیسولین سے بھرے ایک ٹینک میں لگی ہے، جس سے ایندھن نکالنے کا عمل جاری ہے۔
ریسکیو حکام نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ آگ بجھانے والا عملہ جائے وقوعہ پر موجود ہے اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے۔
یہ واقعہ اسرائیلی فوج کی جانب سے ایران سے میزائل حملوں کی اطلاع کے فوراً بعد پیش آیا۔ تاہم حکام کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ریفائنری پر گرنے والا ملبہ ایرانی میزائل کا ہے یا لبنان سے داغے گئے کسی پروجیکٹائل کو روکنے والے اسرائیلی انٹرسیپٹر کا۔
حیفہ اسرائیل کا تیسرا بڑا شہر ہے اور متاثرہ ریفائنری ایک بڑے صنعتی زون میں واقع ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس سے قبل 19 مارچ کو بھی ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملے کے دوران اسی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
واقعے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد تک دھوئیں کے بادلوں میں کمی دیکھی گئی اور فائر فائٹرز نے آگ کو محدود کرنے کے لیے آپریشن جاری رکھا۔ اسرائیلی فوج نے اس سے قبل شمالی اسرائیل میں کسی مقام پر میزائل گرنے کی اطلاعات کے بعد امدادی ٹیموں کو روانہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
