-Advertisement-

ایران میں داخلی دراڑیں، امریکا کے پسِ پردہ رابطوں کے اشارے

تازہ ترین

بھارت کی پاکستانی قیدیوں کو استعمال کر کے فالس فلیگ آپریشن کی منصوبہ بندی، ذرائع

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) مودی سرکار مشرق وسطیٰ کی جنگ میں پاکستان کے فعال ثالثی کردار سے بوکھلاہٹ کا...
-Advertisement-

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کے روز اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت کے اندر موجود عناصر کے ساتھ کام کرنے کے امکانات موجود ہیں۔ اے بی سی نیوز کے پروگرام گڈ مارننگ امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کو نجی سطح پر ایران سے مثبت پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔

روبیو کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اندرونی حلقوں میں واضح دراڑیں پڑ چکی ہیں اور امریکہ کو امید ہے کہ اقتدار ایسے افراد کے ہاتھ میں آئے گا جو معاملات طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں اب ایسے لوگ موجود ہیں جو ماضی کے حکمرانوں کے برعکس امریکہ سے بات چیت کے لیے تیار ہیں اور کچھ معاملات پر تعاون کا عندیہ بھی دے رہے ہیں۔

الجزیرہ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ نے تصدیق کی کہ ایران کے اندر موجود کچھ حلقوں اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ اور کچھ براہ راست رابطے جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ بات چیت زیادہ تر ثالثوں کے ذریعے ہو رہی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔

دوسری جانب مارکو روبیو نے ایرانی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں مذہبی جنونی قرار دیا اور کہا کہ انہیں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کی جنگ کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنا ہے، جس کا صدر ٹرمپ پہلے ہی دعویٰ کر چکے ہیں۔

یہ پیش رفت صدر ٹرمپ کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران میں حکومت تبدیل ہو چکی ہے اور اب امریکہ ایک بالکل مختلف اور معقول گروپ سے بات کر رہا ہے۔ جنگ کے آغاز پر اسرائیل کی جانب سے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکام کو ہلاک کیے جانے کے بعد سے ایران کی داخلی صورتحال میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔

روبیو نے تسلیم کیا کہ ایران کی جانب سے عوامی بیانات اور نجی پیغامات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ تاہم، سفارتی کوششوں کے باوجود امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے اور صدر ٹرمپ نے پیر کے روز دھمکی دی کہ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو ایران کے تیل برآمد کرنے والے جزیرے خارگ کو تباہ کر دیا جائے گا۔

ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حصول کے الزامات کی مسلسل تردید کی جاتی رہی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کا کہنا ہے کہ تاحال کسی ایٹمی بم کی تیاری کے فوری آثار نہیں ملے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -