امریکی فوج کی ایلیٹ 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے ہزاروں پیراٹروپرز مشرق وسطیٰ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جاری جنگ میں اپنے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کر رہے ہیں۔
شمالی کیرولائنا کے فورٹ بریگ سے تعلق رکھنے والے یہ پیراٹروپرز ان ہزاروں اضافی بحری فوجیوں، میرینز اور اسپیشل آپریشنز فورسز کا حصہ ہیں جنہیں حال ہی میں خطے میں تعینات کیا گیا ہے۔ گزشتہ اختتام ہفتہ پر تقریباً ڈھائی ہزار میرینز پہلے ہی مشرق وسطیٰ پہنچ چکے ہیں۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام نے ان فوجیوں کی درست تعیناتی کے مقام کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم یہ واضح کیا کہ اس اضافی نفری میں 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کا ہیڈ کوارٹر، لاجسٹک سپورٹ اور ایک بریگیڈ کامبیٹ ٹیم شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تاحال ایران میں زمینی فوج بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم ان اقدامات کا مقصد خطے میں ممکنہ مستقبل کے آپریشنز کے لیے عسکری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
ان فوجیوں کو ایران کے خلاف جنگ میں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جن میں جزیرہ خارک پر قبضہ بھی شامل ہے جو ایران کی 90 فیصد تیل کی برآمدات کا مرکز ہے۔ اس کے علاوہ امریکی انتظامیہ میں ایران کے اندر انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو نکالنے اور آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی محفوظ نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے زمینی فوج کے ممکنہ کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک زیادہ معقول حکومت سے مذاکرات کر رہا ہے، تاہم انہوں نے تہران کو خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران کے آئل ویلز اور پاور پلانٹس پر حملے کیے جا سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی زمینی فوج کا استعمال صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی خطرات کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ امریکی عوام میں ایران کے خلاف مہم کی حمایت کم ہے اور ٹرمپ نے اپنے انتخابی وعدوں میں مشرق وسطیٰ کی نئی تنازعات میں الجھنے سے گریز کرنے کا عزم کیا تھا۔
آپریشن ایپک فیوری کے آغاز یعنی 28 فروری سے اب تک امریکہ 11 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے۔ اس دوران 300 سے زائد امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں جبکہ 13 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
