-Advertisement-

امریکی حراستی مرکز میں میکسیکن تارکِ وطن کی ہلاکت، رواں برس مرنے والوں کی تعداد 14 ہو گئی

تازہ ترین

اسرائیلی حملے میں یتیم ہونے والی شامی بچی کی وطن واپسی اور اسکول جانے کی خواہش

بیروت کے جنوبی مضافات میں مقیم بارہ سالہ شامی بچی نریمان العیسیٰ کی زندگی ایک ماہ قبل تک دیگر...
-Advertisement-

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ایڈی لینٹو امیگریشن حراستی مرکز میں میکسیکو سے تعلق رکھنے والا ایک تارک وطن دوران حراست ہلاک ہو گیا۔ امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے مطابق جوز گوڈالپے راموس نامی شخص کو 25 مارچ کو ان کے بستر پر بے ہوشی کی حالت میں پایا گیا، جس کے بعد طبی امداد کے لیے انہیں مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔

رواں برس 2026 کے دوران امریکی حراستی مراکز میں ہلاکتوں کی یہ کم از کم چودہویں واردات ہے۔ حکام کے مطابق راموس کو 23 فروری کو ٹورینس، کیلیفورنیا سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر 2025 میں منشیات اور چوری کے الزامات ثابت ہوئے تھے۔ ابتدائی طبی جانچ میں ان میں ذیابیطس، ہائی کولیسٹرول اور ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص ہوئی تھی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2025 میں بڑے پیمانے پر ملک بدری کی مہم شروع کرنے کے بعد حراستی مراکز میں قیدیوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ فروری کے اوائل تک 68 ہزار افراد کو حراست میں رکھا گیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ 2025 میں 31 افراد کی ہلاکتیں دو دہائیوں کی بلند ترین سطح تھیں اور موجودہ شرح اس ریکارڈ کو توڑ سکتی ہے۔

میکسیکو کی وزارت خارجہ نے اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ لاس اینجلس میں میکسیکو کی سفارت کار وینیسا کالوا روئیز نے اسے ایک تشویشناک اور ناقابل قبول رجحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہلاکتیں نظامی ناکامی اور غفلت کو ظاہر کرتی ہیں۔ میکسیکو حکومت نے حراستی مرکز میں ناقص طبی سہولیات اور خراب حالات کے خلاف دائر مقدمے میں قانونی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے اور معاملہ انٹر امریکن کمیشن آن ہیومن رائٹس میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حراستی مراکز میں قیدیوں کے لیے طبی سہولیات کا معیار امریکی جیلوں سے بہتر ہے۔ واضح رہے کہ 2025 میں منظور کیے گئے ایک بل کے تحت آئی سی ای کے فنڈز میں نمایاں اضافہ کیا گیا تھا جس کے بعد اب یہ ادارہ ایک وقت میں ایک لاکھ سے زائد افراد کو حراست میں رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -