یوکرین نے منگل کے روز روس کی بالٹک سمندر میں واقع بندرگاہ اوست-لوگا پر ڈرون حملہ کیا ہے جو گزشتہ دس دنوں کے دوران پانچواں حملہ ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس حملے میں تیل لوڈ کرنے والا ٹرمینل نشانہ بنا ہے جس سے روس کی خام تیل کی برآمدات میں مزید مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران کیف نے روس کے تیل برآمد کرنے والے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔ اوست-لوگا اور پریمورسک کی بندرگاہوں پر ہونے والے یہ حالیہ ڈرون حملے چار سالہ جنگ کے دوران سب سے شدید تصور کیے جا رہے ہیں۔
مارکیٹ ڈیٹا اور رائٹرز کے تخمینوں کے مطابق ڈرون حملوں، پائپ لائن پر متنازع حملے اور ٹینکرز کی ضبطی کے باعث روس کی تیل برآمد کرنے کی صلاحیت کا کم از کم چالیس فیصد حصہ متاثر ہو چکا ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیر کے روز کہا تھا کہ کیف کے کچھ اتحادیوں نے روس کے تیل کے شعبے پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں کو محدود کرنے کے حوالے سے اشارے دیے ہیں، کیونکہ ایران میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
علاقائی گورنر الیگزینڈر ڈروزڈینکو کے مطابق حملے میں دو بچوں سمیت تین افراد زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد فراہم کر دی گئی ہے، جبکہ کئی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ انہوں نے ٹیلی گرام پر پیغام میں بتایا کہ علاقے میں فضائی الرٹ ختم کر دیا گیا ہے اور بعد ازاں دعویٰ کیا کہ حملے کے اثرات کو ختم کر کے رہائشی علاقوں میں گرم پانی اور ہیٹنگ کی فراہمی بحال کر دی گئی ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ان حملوں کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس اپنی اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے تاہم ایسی تنصیبات کو سو فیصد محفوظ بنانا ممکن نہیں ہے۔
صنعت سے وابستہ تین ذرائع کا کہنا ہے کہ یوکرینی ڈرونز نے روسی پائپ لائن مونوپولی ٹرانسنیفٹ کے زیر انتظام خام تیل لوڈ کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ٹرانسنیفٹ نے اس معاملے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
فن لینڈ کی خلیج کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع اوست-لوگا بندرگاہ تیل صاف کرنے اور برآمد کرنے والی تنصیبات کا ایک وسیع مرکز ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال اس بندرگاہ سے تین کروڑ انتیس لاکھ میٹرک ٹن تیل کی مصنوعات برآمد کی گئیں، اور یہ روزانہ تقریباً سات لاکھ بیرل خام تیل ہینڈل کرتی ہے۔
حکام کے مطابق اوست-لوگا بندرگاہ پر بائیس، پچیس، ستائیس، انتیس اور اکتیس مارچ کو حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں برآمدی آپریشنز معطل کرنا پڑے۔
