-Advertisement-

مزید ایرانی رہنماؤں کی ہلاکت پر امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو نشانہ بنائیں گے: پاسدارانِ انقلاب

تازہ ترین

جے پی مورگن کا سرمایہ کاروں کے لیے پریڈکشن مارکیٹ سروسز شروع کرنے پر غور

جے پی مورگن چیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیمی ڈیمن نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا بینک مستقبل...
-Advertisement-

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے منگل کے روز ایک ہنگامی بیان جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی قیادت کے خلاف ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ ایپل، گوگل اور میٹا جیسی بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو نشانہ بنائیں گے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ کارروائی یکم اپریل بروز بدھ تہران کے مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے سے شروع ہوگی۔

بیان میں کل اٹھارہ کمپنیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں انٹیل، مائیکروسافٹ، اوریکل، ٹیسلا، پیلنٹیر اور اینویڈیا بھی شامل ہیں۔ ایرانی حکام کا الزام ہے کہ یہ کمپنیاں ایرانی عہدیداروں کے قتل میں ملوث ہیں اور ٹارگٹ کلنگ کے منصوبوں کی تیاری اور ٹریکنگ میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب نے ان اداروں کے ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ اپنی جانیں بچانے کے لیے فوری طور پر اپنے دفاتر خالی کر دیں۔ اس کے علاوہ ان کمپنیوں کے اطراف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر رہائش پذیر شہریوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیک وقت تنازع ختم کرنے کے لیے سفارت کاری اور ایران کے خلاف مہم کو مزید تیز کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے یہ اقدام اٹھائیس فروری کو جنگ کے آغاز پر سپریم لیڈر علی خامنہ ای، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ان چیف محمد پاکپور اور سیکیورٹی چیف علی لاریجانی سمیت دیگر اہم شخصیات کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے منگل کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی انفراسٹرکچر پر حملوں کے جواب میں ان کے ڈرونز نے اسرائیل کے اہم مواصلاتی اور صنعتی مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔ ان میں حیفہ شہر میں اے ٹی اینڈ ٹی اور بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب سیمنز کے مراکز شامل ہیں۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے ان مراکز کو نقصان پہنچنے کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

یاد رہے کہ مارچ کے اوائل میں ایمیزون نے رپورٹ کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں اس کے دو ڈیٹا سینٹرز کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا جبکہ بحرین میں بھی ایک سینٹر کو نقصان پہنچا تھا۔ تہران کا موقف ہے کہ وہ ہر ٹارگٹ کلنگ کا بدلہ لینے کے لیے پرعزم ہے اور ان تمام کمپنیوں کو جو دہشت گردانہ عزائم میں شریک ہیں، جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -