-Advertisement-

اٹلی کا مشرقِ وسطیٰ آپریشنز کے لیے امریکی طیاروں کو سسلی بیس کے استعمال سے انکار

تازہ ترین

جے پی مورگن کا سرمایہ کاروں کے لیے پریڈکشن مارکیٹ سروسز شروع کرنے پر غور

جے پی مورگن چیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیمی ڈیمن نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا بینک مستقبل...
-Advertisement-

اطالوی حکومت نے گزشتہ ہفتے امریکی فوجی طیاروں کو سسلی کے سگونیلہ ایئربیس پر اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب امریکی طیارے مشرق وسطیٰ کی جانب محوِ سفر تھے، تاہم واشنگٹن نے اس حوالے سے اطالوی حکومت سے پیشگی اجازت نہیں لی تھی۔

اطالوی اخبار کوریری ڈیلا سیرا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی بمبار طیارے مشرق وسطیٰ جانے سے قبل سسلی کے مشرقی حصے میں واقع اس اڈے پر رکنا چاہتے تھے، جہاں امریکہ، اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔

ایک باخبر ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی ہے کہ اٹلی نے ستائیس مارچ کو امریکی طیاروں کو اترنے کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا۔ حکومتی ضابطوں کے مطابق امریکی تنصیبات کے استعمال کے لیے اطالوی عسکری قیادت سے مشاورت اور اجازت لینا لازمی ہے، جس کی خلاف ورزی کی گئی۔

اطالوی حکومت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اٹلی بین الاقوامی معاہدوں اور پارلیمنٹ کو دی گئی پالیسی گائیڈ لائنز کے مطابق عمل پیرا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فوجی تنصیبات کے استعمال کی ہر درخواست کا انفرادی بنیاد پر جائزہ لیا جاتا ہے اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کوئی کشیدگی موجود نہیں ہے۔

حکومت نے واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات مضبوط اور مکمل تعاون پر مبنی ہیں۔ تاہم اس معاملے پر امریکی سفارت خانے کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

اس سے قبل اسپین نے بھی ایران کے خلاف حملوں میں ملوث امریکی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے سخت ناقد رہے ہیں۔

اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، تاہم انہوں نے اس معاملے پر پارلیمانی منظوری حاصل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اٹلی اپنی سرزمین کو اس جنگ میں استعمال نہ ہونے دے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے سسلی چیپٹر کے سربراہ انتھونی بارباگلو نے کہا کہ وزیر کروسیٹو کا اجازت نہ دینے کا فیصلہ درست اور اہم قدم ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -