بغداد میں منگل کے روز امریکی صحافی شیلی کٹلسن کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے۔ اس واقعے کی تصدیق دو باخبر ذرائع اور ایک عراقی عہدیدار نے کی ہے۔ عراقی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں غیر ملکی صحافی کے اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر کے اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی کو تحویل میں لے لیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے قومی سلامتی کے تجزیہ کار اور کٹلسن کے قریبی ساتھی ایلکس پلیٹسس نے تصدیق کی ہے کہ شیلی کٹلسن کو اغوا کیا گیا ہے۔ پلیٹسس کے مطابق امریکی حکومت نے کٹلسن کو خبردار کیا تھا کہ ایران نواز ملیشیا کتیب حزب اللہ انہیں اغوا یا قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور ان کا نام تنظیم کی ہٹ لسٹ میں شامل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کٹلسن کو خطرے سے آگاہ کیا گیا تھا تاہم انہوں نے اسے غلط اطلاع سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا۔
ایک عراقی عہدیدار کا کہنا ہے کہ حکام کٹلسن کی بازیابی کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر کوششیں کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتی ہے اور واقعے کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آئی، نیشنل سیکیورٹی کونسل، محکمہ خارجہ، ڈیلٹا فورس اور عراقی انسداد دہشت گردی فورس اس معاملے پر مسلسل رابطے میں ہیں۔
شیلی کٹلسن کے لیے کام کرنے والے ادارے المانیٹر نے اپنے بیان میں ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ وہ کٹلسن کے اغوا پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں اور ان کی بحفاظت واپسی کے خواہاں ہیں۔
یاد رہے کہ 29 مارچ کو عراق میں امریکی سفارت خانے نے خبردار کیا تھا کہ ایران نواز عسکریت پسند گروہ بغداد اور دیگر شہروں میں امریکی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس تنبیہ کے بعد امریکی شہریوں کو اپنی حفاظت کے پیش نظر عراق چھوڑنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ فی الحال ایف بی آئی نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
