-Advertisement-

معاہدہ ہو یا نہ ہو، امریکا جلد ایران سے نکل جائے گا: ڈونلڈ ٹرمپ

تازہ ترین

ایران کے ساتھ جنگ کے خدشات: یورپ کی امریکی فوجی کارروائیوں میں تعاون سے ہچکچاہٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے لیے عسکری سازوسامان...
-Advertisement-

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے ایک تقریب کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج ایران میں جاری اپنے آپریشنز کو بہت جلد ختم کر دیں گی۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اس عمل میں دو سے تین ہفتوں کا وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران میں امریکی کارروائیوں کا خاتمہ کسی معاہدے کا محتاج نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد ایران کو ایسی صورتحال میں پہنچانا ہے جہاں سے وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قابل نہ رہ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہے کوئی معاہدہ ہو یا نہ ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کے مطابق جب ایران طویل عرصے کے لیے غیر فعال ہو جائے گا تو امریکی افواج وہاں سے نکل آئیں گی۔

ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنا تیل خود حاصل کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس، چین یا دیگر ممالک کو اپنے بحری جہازوں کی حفاظت اور ایندھن کی فراہمی کے لیے خود آبنائے ہرمز جانا چاہیے۔ امریکہ اب اس معاملے میں مزید کردار ادا نہیں کرے گا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر اپنے پیغام میں بھی صدر ٹرمپ نے یہی مؤقف دہرایا کہ امریکہ اب دیگر ممالک کی مدد نہیں کرے گا کیونکہ مشکل کام مکمل کیا جا چکا ہے اور ایران کو کافی حد تک نقصان پہنچایا گیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ آنے والے چند دن ایران کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ وہ حال ہی میں ایران کے خلاف جاری آپریشنز میں شریک امریکی فوجیوں سے ملاقات کے لیے ایک خفیہ دورہ کر چکے ہیں۔ وزیر دفاع نے اس بات کو مسترد نہیں کیا کہ مستقبل میں زمینی افواج بھی اس تنازع کا حصہ بن سکتی ہیں۔

ہیگسیٹ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے امریکہ اب تک بھاری ذمہ داری اٹھا چکا ہے، تاہم اب دیگر ممالک کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اپنی عسکری طاقت کے ذریعے اب صورتحال کو تبدیل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -