امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے لیے عسکری سازوسامان لے جانے والے طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر فرانس کے اس اقدام کو انتہائی غیر معاون قرار دیا ہے۔
فرانسیسی ایوان صدر نے ٹرمپ کے بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا فیصلہ تنازع کے آغاز سے جاری فرانسیسی پالیسی کے عین مطابق ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ فرانس نے 28 فروری سے جاری تنازع کے دوران اسرائیل کو فضائی حدود کے استعمال سے روکا ہے۔
اسرائیلی وزارت دفاع نے فرانس پر براہ راست رکاوٹیں کھڑی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فرانسیسی پابندی اس وقت لگائی گئی جب پیشگی ہم آہنگی کے باوجود یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ یہ اسلحہ صرف ایران کے خلاف جنگ کے لیے ہے۔ اسرائیل نے اس صورتحال کے بعد فرانس سے تمام دفاعی خریداری معطل کرنے اور فرانسیسی فوج کے ساتھ نئے رابطے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب اٹلی نے بھی امریکی طیاروں کو سسلی کے سگونیلہ ایئربیس پر اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم اطالوی وزیر دفاع گائیڈو کروسیٹو نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے تناؤ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اڈے بدستور فعال ہیں، البتہ موجودہ معاہدوں سے ہٹ کر کسی بھی کارروائی کے لیے خصوصی اجازت درکار ہے۔
ہسپانوی حکومت نے بھی اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف حملوں میں ملوث امریکی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند رکھنے کے فیصلے پر قائم ہے۔ ہسپانوی وزیر دفاع مارگریٹا روبلز کا کہنا ہے کہ ان کے اڈے صرف نیٹو اتحادیوں کے اجتماعی دفاع کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ پر بھی عدم تعاون کا الزام عائد کیا ہے۔ ٹرمپ نے برطانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ سے ایندھن خریدیں اور ایران کے خلاف کارروائی میں ہمت کا مظاہرہ کریں۔ اس صورتحال نے نیٹو کے اہم رکن ممالک کے مابین گہرے اختلافات کو بے نقاب کر دیا ہے، جبکہ جرمنی میں واقع امریکی اڈے ریمسٹین کے استعمال پر بھی داخلی بحث جاری ہے۔
