-Advertisement-

ایران جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، ایشیائی ممالک میں صنعتی سرگرمیاں سست پڑ گئیں

تازہ ترین

کریمیہ میں روسی فوجی طیارہ گر کر تباہ، 29 افراد ہلاک

روس کے زیر قبضہ کریمیا میں ایک فوجی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں عملے...
-Advertisement-

ایران اور اسرائیل کے مابین کشیدگی اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث مارچ کے دوران ایشیائی معیشتوں میں صنعتی سرگرمیاں سست روی کا شکار رہی ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے خطے کے کاروباری شعبے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

خطے کے ممالک اپنی ضرورت کا اسی فیصد تیل آبنائے ہرمز کے راستے درآمد کرتے ہیں، جس کی بندش کے بعد پیدا ہونے والے توانائی کے بحران نے ایشیائی منڈیوں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

چین کے مینوفیکچرنگ سیکٹر میں مسلسل چوتھے ماہ توسیع تو دیکھی گئی تاہم مہنگائی کے دباؤ اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث ترقی کی رفتار سست رہی ہے۔ ایس اینڈ پی گلوبل کی رپورٹ کے مطابق چین کا پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس فروری کے 52 اعشاریہ ایک کے مقابلے میں مارچ میں 50 اعشاریہ آٹھ پر آ گیا، جو تجزیہ کاروں کی 51 اعشاریہ چھ کی پیشگوئی سے کم ہے۔

انڈونیشیا، ویتنام، تائیوان اور فلپائن سمیت دیگر ایشیائی ممالک میں بھی مینوفیکچرنگ سرگرمیوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ جاپانی صنعتوں کو بھی کاروباری ماحول کی خرابی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا ہے، جہاں مینوفیکچرنگ پی ایم آئی 53 اعشاریہ صفر سے گر کر 51 اعشاریہ چھ پر آ گیا ہے۔

جاپان میں خام مال کی قیمتیں اگست 2024 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے، ین کی گرتی قدر اور لیبر کی کمی نے جاپانی صنعت کاروں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلی جنس کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر اینابل فیڈس کا کہنا ہے کہ جنگ نے عالمی اقتصادی منظرنامے کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں، جس کے نتیجے میں کاروباری اعتماد مجروح ہوا ہے اور کمپنیاں نئی بھرتیاں کرنے یا خریداری میں احتیاط سے کام لے رہی ہیں۔

انڈونیشیا کا پی ایم آئی 53 اعشاریہ آٹھ سے کم ہو کر 50 اعشاریہ ایک اور ویتنام کا انڈیکس 54 اعشاریہ تین سے گر کر 51 اعشاریہ دو پر آ گیا ہے۔ تاہم جنوبی کوریا اس صورتحال میں مستثنیٰ رہا، جہاں سیمی کنڈکٹرز کی مانگ اور نئی مصنوعات کے اجراء کے باعث گزشتہ چار برسوں کے دوران صنعتی سرگرمیوں میں سب سے تیز رفتار اضافہ دیکھا گیا۔

آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کو بری طرح متاثر کیا ہے جس سے خام تیل کی قیمتوں اور افراط زر میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈالر کی مانگ بڑھنے سے ایشیائی کرنسیوں کی قدر میں کمی واقع ہوئی ہے، جس نے خطے کے مرکزی بینکوں کے لیے معیشت کو جنگ کے منفی اثرات سے بچانے کا چیلنج مزید سنگین کر دیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -