-Advertisement-

اٹلی مسلسل تیسری بار فیفا ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام

تازہ ترین

ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے لیے تجارتی قواعد میں نرمی، تاجر برادری کا خیرمقدم

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے ایران، وسطی ایشیائی ریاستوں اور...
-Advertisement-

اٹلی کا عالمی کپ میں شرکت کا خواب ایک بار پھر چکنا چور ہو گیا ہے۔ منگل کے روز کھیلے گئے پلے آف فائنل میں بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا نے اٹلی کو پنالٹی شوٹ آؤٹ پر چار کے مقابلے میں ایک گول سے شکست دے کر میگا ایونٹ کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ مقررہ وقت تک مقابلہ ایک ایک گول سے برابر تھا۔

چار بار کی عالمی چیمپئن اطالوی ٹیم مسلسل تیسری بار ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ سن دو ہزار چھ میں ورلڈ کپ جیتنے کے بعد سے اٹلی کی ٹیم ٹورنامنٹ کے فائنل راؤنڈ میں صرف ایک میچ ہی جیت سکی ہے۔ اس شکست کے بعد اٹلی کے مقامی اخبارات نے اسے ورلڈ کپ کا منحوس سایہ قرار دیا ہے۔

میچ کے پندرہویں منٹ میں موئس کین نے گول کر کے اٹلی کو برتری دلائی تھی تاہم بیالیسویں منٹ میں الیساندرو باسٹونی کو ریڈ کارڈ ملنے کے بعد اطالوی ٹیم دس کھلاڑیوں تک محدود ہو گئی۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بوسنیا کے حارث تباکووچ نے میچ ختم ہونے سے گیارہ منٹ قبل گول کر کے مقابلہ برابر کر دیا۔

پنالٹی شوٹ آؤٹ میں اطالوی کھلاڑی پیو ایسپوسیتو اور برائن کرسٹانٹے گول کرنے میں ناکام رہے جبکہ بوسنیا کے اٹھارہ سالہ نوجوان کھلاڑی کریم الاجبگووچ نے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے گیند کو جال کی راہ دکھائی۔ بوسنیا کے کوچ سرجیو بارباریز نے اپنی ٹیم کی کارکردگی کو شاندار قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں نے میدان میں غیر معمولی سکون اور ہمت کا مظاہرہ کیا۔

بوسنیا کی ٹیم اب ورلڈ کپ کے گروپ بی میں شامل ہو گئی ہے جہاں ان کا مقابلہ کینیڈا، قطر اور سوئٹزرلینڈ سے ہوگا۔ دوسری جانب اٹلی میں اس مسلسل ناکامی پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ روم کے رہائشی شائقین کا کہنا ہے کہ یہ شکست اطالوی فٹ بال کے نظام پر سوالیہ نشان ہے اور ٹیم کو مکمل تعمیر نو کی ضرورت ہے۔

اٹلی کی ٹیم سن دو ہزار چودہ کے بعد سے اب تک ورلڈ کپ میں جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ تین بار مسلسل پلے آف مرحلے میں شکست نے اطالوی شائقین کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ٹیم کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -