-Advertisement-

یوکرین کو ڈونباس سے فوجیں فوری نکال لینی چاہیے تھیں، کریملن کا بیان

تازہ ترین

نیوزی لینڈ: حادثے کے بعد لاپتہ ہونے والا کتا ایک ہفتے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے بازیاب

نیوزی لینڈ کے جنگلات میں ایک سو اسی فٹ بلند آبشار سے گر کر زخمی ہونے والی خاتون کی...
-Advertisement-

کریملن نے بدھ کے روز کہا ہے کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو جنگ کے گرم مرحلے کو ختم کرنے کے لیے ڈونباس کے علاقے سے اپنی افواج کے انخلا کا مشکل فیصلہ گزشتہ روز ہی کر لینا چاہیے تھا۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب ایک روز قبل صدر زیلنسکی نے دعویٰ کیا تھا کہ روس نے امریکہ کو پیغام دیا ہے کہ اگر یوکرینی افواج دو ماہ کے اندر ڈونباس سے نہ نکلیں تو ماسکو امن معاہدے کی شرائط کو مزید سخت کر دے گا۔

جب پیسکوف سے دو ماہ کی ڈیڈ لائن کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ یہ بات اہمیت کی حامل نہیں ہے۔

پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زیلنسکی کو یوکرینی فوج کے ڈونباس سے انخلا کا فیصلہ آج ہی کرنا ہوگا اور یہ بات بارہا دہرائی جا چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اصولی طور پر زیلنسکی کو یہ فیصلہ گزشتہ روز ہی کر لینا چاہیے تھا۔ ان کے بقول اگر یوکرینی صدر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ مشکل فیصلہ کر لیں تو اس سے بہت سے لوگوں کی جانیں بچ سکتی ہیں اور سب سے اہم بات یہ کہ جنگ کا گرم مرحلہ ختم ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب صدر زیلنسکی نے منگل کے روز اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ انہیں حیرت ہے کہ کوئی یہ کیسے سوچ سکتا ہے کہ روس دو ماہ کے اندر ڈونباس کے بقیہ حصے پر قبضہ کر لے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین سفارتی حل کا خواہاں ہے تاہم وہ صرف موجودہ فرنٹ لائنز پر جنگ بندی کے لیے تیار ہوگا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -