اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ڈی پی نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے مابین ایک ماہ تک جاری رہنے والی جنگ عرب معیشتوں کو 194 ارب ڈالر تک کا بھاری نقصان پہنچا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں خطے کے لاکھوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس تنازع سے خطے کی مجموعی ملکی پیداوار جی ڈی پی میں 3.7 سے 6 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے، جو کہ 120 سے 194 ارب ڈالر کے نقصان کے مساوی ہے۔ یہ صورتحال سال 2025 کے دوران حاصل ہونے والی معاشی ترقی کو مکمل طور پر ختم کر سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل اور عرب ریاستوں کے لیے یو این ڈی پی کے ڈائریکٹر عبداللہ الدرداری کا کہنا ہے کہ یہ تنازع خطے کی معیشتوں میں موجود گہری ساختی کمزوریوں کو بے نقاب کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ لڑائی جلد ختم ہو جائے گی کیونکہ تاخیر کا ہر دن عالمی معیشت کے لیے منفی اثرات کا باعث بن رہا ہے۔
رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ جنگ کے باعث خطے میں 37 لاکھ سے 40 لاکھ افراد غربت کا شکار ہو سکتے ہیں جبکہ 37 لاکھ تک ملازمتیں ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ اعداد و شمار چار ہفتوں پر محیط ایک مختصر مگر شدید جنگی منظرنامے کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں، اور اگر دشمنی کا سلسلہ مزید طویل ہوا تو معاشی نقصانات میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔
جنگ کے باعث توانائی کی ترسیل میں خلل پڑا ہے اور ہرمز آبنائے جیسے اہم سمندری راستوں پر خطرات بڑھ گئے ہیں، جس سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سپلائی میں کمی اور سرمایہ کاروں کے تحفظات کو ظاہر کیا ہے۔
یو این ڈی پی کے مطابق اس معاشی دھچکے سے سب سے زیادہ متاثر سوڈان، یمن اور لیونٹ کے خطے ہوں گے جہاں پہلے سے موجود کمزوریاں بیرونی دباؤ کے اثرات کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ لبنان میں جاری فضائی حملوں اور نقل مکانی کے باعث انفراسٹرکچر اور عوامی خدمات شدید دباؤ کا شکار ہیں، جس سے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں ایران کی معیشت میں بھی نمایاں گراوٹ کی وارننگ دی گئی ہے، جہاں جی ڈی پی کی شرح نمو میں 10.4 فیصد تک کمی متوقع ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ کشیدگی میں مسلسل اضافہ مشرق وسطیٰ میں معاشی بحران کو گہرا کر سکتا ہے جس کے منفی اثرات عالمی تجارت، افراطِ زر اور سپلائی چین پر مرتب ہوں گے۔
