-Advertisement-

ایرانی کمانڈر کی آخری رسومات: تہران میں اسرائیل مخالف نعرے، مزاحمت جاری رکھنے کا عزم

تازہ ترین

قومی گندم نگران کمیٹی کا خریداری کے انتظامات اور غذائی تحفظ پر اہم اجلاس

قومی گندم نگران کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز منعقد ہوا جس میں گندم کی خریداری کے انتظامات، صوبوں...
-Advertisement-

تہران میں بدھ کے روز ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے بحری کمانڈر کی آخری رسومات کے موقع پر ہزاروں افراد نے شرکت کی، جو حال ہی میں اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ سوگواروں نے واشنگٹن کی جانب سے سخت بیانات کے باوجود آخری دم تک لڑنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ جلوس اسلامی جمہوریہ کے قیام کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر نکالا گیا، جو یکم اپریل 1979 کو انقلاب کے بعد وجود میں آئی تھی۔

اس سال یہ قومی دن خاص اہمیت کا حامل رہا کیونکہ تہران 28 فروری سے جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ 57 سالہ پنشنر موسیٰ نوروزی کا کہنا تھا کہ یہ جنگ ایک ماہ سے جاری ہے اور چاہے کتنا ہی وقت کیوں نہ لگے، ہم مزاحمت جاری رکھیں گے۔

دارالحکومت کے قلب میں واقع انقلاب اسکوائر میں شرکاء نے بڑے ایرانی پرچم اٹھا رکھے تھے اور حکومت کے حق میں نعرے بازی کی۔ ہجوم اللہ اکبر اور خامنہ ای رہبر کے نعرے بلند کر رہا تھا، جبکہ کئی افراد اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے جو اس تنازع میں ہلاک ہوئے تھے۔

کمانڈر علی رضا تنگسیری کا تابوت انتہائی عقیدت کے ساتھ ہجوم میں سے گزارا گیا۔ تنگسیری پاسدارانِ انقلاب کے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے سینئر ترین افسران میں سے تھے اور انہیں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی حکمت عملی کا معمار سمجھا جاتا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی صدر نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے، جس کی تہران نے سختی سے تردید کی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ جنگ بندی پر تب ہی غور کریں گے جب آبنائے ہرمز آزاد اور کھلی ہوگی، بصورت دیگر بمباری جاری رہے گی۔

احتجاج میں شریک 36 سالہ ہما وثوق کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے بیانات سے امریکی عوام بھی الجھن کا شکار ہیں۔ سرکاری ملازم محمد صالح مومنی نے ٹرمپ کے دعووں کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشمن یہ غلط فہمی پالے ہوئے ہیں کہ کمانڈروں کی ہلاکت سے ہم کمزور پڑ جائیں گے۔

اگرچہ ایران پر حالیہ حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اہم حکام ہلاک ہوئے ہیں، تاہم ملکی نظام بدستور قائم ہے اور ایران بدستور میزائل اور ڈرون حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس دوران تہران کی سڑکوں پر مقتول رہنما اور ان کے بیٹے مجتبیٰ کی تصاویر آویزاں ہیں۔

دوسری جانب، جنوری میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد کچھ ایرانی شہری اب بھی سیاسی تبدیلی کی خواہش رکھتے ہیں۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک خاتون نے کہا کہ ٹرمپ نے ایرانیوں کو مایوس کیا ہے اور اب انہیں حکومت کی تبدیلی کی کوئی توقع نہیں، البتہ وہ مزید آزادیوں کے خواہاں ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -