واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کی شب قوم سے ٹیلی ویژن پر براہ راست خطاب کریں گے جس میں ایران کے خلاف جاری جنگ کی تازہ ترین صورتحال پر بات کی جائے گی۔ صدر ٹرمپ نے توقع ظاہر کی ہے کہ یہ آپریشن مزید چند ہفتے جاری رہے گا، جبکہ انہوں نے نیٹو سے امریکہ کے انخلا کی دھمکی بھی دی ہے۔
آپریشن ایپک فیوری کے آغاز کو 33 دن گزر چکے ہیں اور یہ جاری فوجی مہم اس چار سے چھ ہفتوں کے ٹائم لائن کے اندر ہے جو امریکی انتظامیہ نے طے کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ دو سے تین ہفتوں میں ایران سے نکل جائے گا، حالانکہ یہ مدت پہلے سے طے شدہ چھ ہفتوں کی زیادہ سے زیادہ حد سے تجاوز کر سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق صدر اپنے خطاب میں ایران کے خلاف فوجی کامیابیوں کو اجاگر کریں گے جس میں ایرانی بحریہ کی تباہی اور خطے میں پراکسی گروپوں کا خاتمہ شامل ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ آپریشن اپنے تمام اہداف کامیابی سے حاصل کر رہا ہے اور ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا بھی ان مقاصد کا حصہ ہے۔
مشرق وسطیٰ میں سینکڑوں امریکی اسپیشل آپریشن فورسز اور ہزاروں میرینز تعینات ہیں جو صدر ٹرمپ کو مزید فوجی آپشنز فراہم کرتے ہیں۔ یہ افواج آبنائے ہرمز کو کھولنے یا ایران کے جوہری ذخائر کو قبضے میں لینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ زیر زمین ذخیرہ شدہ یورینیم کے بارے میں فکرمند نہیں ہیں اور اس پر سیٹلائٹ کے ذریعے نظر رکھی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے میں مدد نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ نیٹو سے امریکہ کے انخلا پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کیونکہ دیگر ممالک جو مشرق وسطیٰ کے تیل پر انحصار کرتے ہیں، انہیں خود اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے۔
ایران کے خلاف اس جنگ کے اثرات اب امریکی معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ امریکہ میں پیٹرول کی فی گیلن قیمت چار برسوں میں پہلی بار چار ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے جس سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ایک حالیہ سروے کے مطابق 60 فیصد امریکی شہری ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے مخالف ہیں اور 67 فیصد نے جنگ کے دوران ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ادا کرنے سے انکار کیا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ ایران سے امریکی انخلا کے بعد ہی پیٹرول کی قیمتوں میں کمی ممکن ہو سکے گی۔
