-Advertisement-

چین کی میزبانی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ابتدائی نوعیت کے مذاکرات

تازہ ترین

قومی اسمبلی کا اجلاس آج اسلام آباد میں طلب، 18 نکاتی ایجنڈا جاری

قومی اسمبلی کا اجلاس آج بروز جمعرات شام پانچ بجے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہوگا۔ اجلاس...
-Advertisement-

چین، پاکستان اور افغانستان کے حکام کے مابین بدھ کے روز ارومچی میں ایک سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا، جس کا مقصد اسلام آباد اور کابل کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں بات چیت کا راستہ تلاش کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات کو باقاعدہ ثالثی کے عمل کے بجائے ایک ابتدائی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد کی جانب سے اس ملاقات پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم، معاملے سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نشست تینوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود سہ فریقی میکانزم کا ہی ایک حصہ ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ اس ملاقات کا مطلب پاکستان کی افغان پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہے اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف آپریشنز اپنے اہداف کے حصول تک جاری رہیں گے۔

ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت چین کی جانب سے پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ کچھ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ افغان وفد نے اس بات کی تحریری یقین دہانی کرانے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

پاکستانی حکام کا البتہ ماننا ہے کہ محض تحریری ضمانتیں کافی نہیں ہوں گی اور اسلام آباد اس بات پر زور دے رہا ہے کہ سرحد پار سے سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے ایک قابلِ تصدیق میکانزم موجود ہونا چاہیے۔ حکام نے اس ملاقات سے کسی بڑی کامیابی کی توقعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وفود کی سطح سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات ابتدائی نوعیت کے ہیں۔

اس سے قبل دوحہ، استنبول اور ریاض میں ہونے والے مذاکرات اعلیٰ سطح کے تھے جن میں دفاعی وزراء اور انٹیلی جنس سربراہان شریک ہوتے رہے، تاہم وہ ٹھوس نتائج دینے میں ناکام رہے۔ ماہرین موجودہ دور کے حوالے سے بھی شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔

پاکستان کا موقف ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر گروہ افغان سرزمین سے حملے کر رہے ہیں، جس کی تائید اقوام متحدہ کی رپورٹس اور روس و چین کے جائزوں سے بھی ہوتی ہے۔ فروری کے اواخر میں پاکستان کی جانب سے افغان حدود کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا، جس کے جواب میں طالبان نے بھی سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ عید کے موقع پر عارضی جنگ بندی کے باوجود سرحد پر وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں۔

ایک عسکری ذریعے نے تصدیق کی کہ اگرچہ وفود میں وہ شخصیات شامل نہیں جو ماضی کے مذاکرات کا حصہ تھیں، تاہم اس میں تجربہ کار نمائندے موجود ہیں جو چین کی ثالثی کی کوششوں میں سنجیدگی ظاہر کرتے ہیں۔ دونوں فریقین جمعرات اور جمعہ کو تکنیکی اور سرکاری سطح پر بات چیت جاری رکھیں گے۔

جنرل ریٹائرڈ انعام یوسفزئی نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چین ایک برادر ملک ہے اور ہم بیجنگ کے مثبت کردار کا خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن اب گیند افغان حکومت کے کورٹ میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر افغان حکام دانشمندی سے کام لیں تو ہمیں کسی ثالث کی ضرورت نہیں، تاہم انہیں افغان قیادت کے رویے کے حوالے سے شکوک ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -