امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز پر عائد پابندیاں اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ واشنگٹن کی جانب سے وینزویلا کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی کوششوں کا حصہ ہے۔
اس اقدام سے قبل تین ماہ قبل امریکی فورسز نے ایک خصوصی آپریشن کے دوران سابق صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے کر نیویارک منتقل کیا تھا۔ دونوں شخصیات پر منشیات کی سمگلنگ کے الزامات ہیں اور وہ عدالت میں اپنے اوپر عائد الزامات سے انکار کر چکے ہیں۔
ڈیلسی روڈریگز کا نام سپیشلی ڈیزگنیٹڈ نیشنلز کی فہرست سے خارج ہونے کے بعد وہ اب اپنے منجمد اثاثوں تک رسائی حاصل کر سکیں گی اور امریکی کمپنیوں کے ساتھ کاروباری معاملات بھی طے کر پائیں گی۔ امریکہ اور وینزویلا کے درمیان 2019 سے باقاعدہ سفارتی تعلقات معطل ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ڈیلسی روڈریگز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بہترین کام کر رہی ہیں اور امریکی نمائندوں کے ساتھ موثر انداز میں تعاون کر رہی ہیں۔ امریکہ نے حال ہی میں روڈریگز کو وینزویلا کی قیادت کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے کراکس میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کے عمل کا آغاز کیا ہے۔
مادورو کے اقتدار کے خاتمے کے بعد امریکی انتظامیہ وینزویلا کے تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے پابندیوں میں نرمی کی جا رہی ہے تاکہ امریکی کمپنیاں انفراسٹرکچر اور پیداواری صلاحیت میں سرمایہ کاری کر سکیں۔ امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور وزیر داخلہ ڈگ برگم بھی وینزویلا کا دورہ کر چکے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا خاتمہ دونوں ممالک کے درمیان تعمیری تعلقات اور نجی شعبے کے فروغ کا اشارہ ہے جس سے وینزویلا کی معاشی بحالی میں مدد ملے گی۔
ڈیلسی روڈریگز نے ٹیلی گرام پر اپنے پیغام میں اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دو طرفہ تعلقات کی بہتری کی جانب اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس پیش رفت سے دیگر پابندیاں بھی ختم ہوں گی جس سے عوامی مفاد میں باہمی تعاون کا ایجنڈا آگے بڑھے گا۔
یاد رہے کہ 2018 میں مادورو کے متنازع انتخابات کے بعد امریکہ نے ڈیلسی روڈریگز سمیت کئی اہم حکومتی شخصیات پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس وقت محکمہ خزانہ کا موقف تھا کہ روڈریگز کو نائب صدر بنانے کا مقصد مادورو کے آمرانہ اقتدار کو مستحکم کرنا تھا۔
دوسری جانب وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ روڈریگز پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کے ماضی میں مادورو کے ساتھ گہرے تعلقات تھے۔ فروری میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ روڈریگز فی الحال جو کچھ بھی کر رہی ہیں وہ امریکی ہدایات کی تعمیل میں ہے۔
