نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے اگلے ہفتے واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔ فوجی اتحاد کی ترجمان ایلیسن ہارٹ نے اس دورے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے پہلے سے طے شدہ شیڈول کا حصہ قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بھی سیکریٹری جنرل کے دورے کی تصدیق کی ہے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو اتحادیوں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کشیدگی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے یورپی ممالک کی جانب سے بحری جہاز بھیجنے سے انکار پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ نیٹو سے امریکہ کو نکالنے پر غور کر رہے ہیں۔ بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں ایسٹر کے ظہرانے کے دوران اپنے اتحادیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرانس اور برطانیہ سمیت دیگر یورپی ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں کاغذی شیر قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ نیٹو میں شامل کچھ اتحادیوں کا رویہ انتہائی مایوس کن رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں امریکہ کو ان اتحادیوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
واضح رہے کہ نیٹو کا قیام 1949 میں سوویت یونین کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا جس میں امریکہ، کینیڈا اور متعدد یورپی ممالک شامل ہیں۔ یہ اتحاد قیام کے بعد سے ہی مغربی سیکیورٹی کا بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے۔
