-Advertisement-

اطالوی وزیر کھیل کا فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ سے استعفے کا مطالبہ

تازہ ترین

ایران کے ساتھ جنگ: ٹرمپ کی مقبولیت اور ملکی معیشت شدید دباؤ کا شکار

ایران کے ساتھ جاری جنگ کے تیسرے ہفتے کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر مشیروں نے انہیں خبردار...
-Advertisement-

اطالوی وزیر کھیل اینڈریا ابودی نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کی فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔ یہ مطالبہ اطالوی ٹیم کے مسلسل تیسری بار ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکامی کے بعد سامنے آیا ہے۔ منگل کے روز پلے آف مرحلے میں بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کے ہاتھوں پنالٹی شوٹ آؤٹ پر شکست کے بعد اٹلی اب رواں موسم گرما میں امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے ورلڈ کپ مقابلوں کا حصہ نہیں بن سکے گا۔

اطالوی فٹ بال فیڈریشن کے صدر گیبریل گریوینا نے فی الحال استعفیٰ دینے سے انکار کیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے ہونے والا بورڈ کا اجلاس ان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ وزیر کھیل اینڈریا ابودی نے اپنے بیان میں کہا کہ اطالوی فٹ بال کو بنیاد سے دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جس کا آغاز فیڈریشن کی اعلیٰ قیادت میں تبدیلی سے ہونا چاہیے۔

گیبریل گریوینا 2018 کے اواخر سے فیڈریشن کی سربراہی کر رہے ہیں۔ ان کے دور میں ٹیم نے جہاں یورو 2020 میں کامیابی حاصل کی، وہیں کوالیفکیشن مقابلوں میں اسے شدید مشکلات کا سامنا بھی رہا۔ اطالوی فٹ بال فیڈریشن کے ذرائع کے مطابق گریوینا جمعرات کی سہ پہر پروفیشنل لیگز، کھلاڑیوں اور ریفریز کی تنظیموں کے سربراہان سے ملاقات کریں گے جس میں کھیل کے مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔

ادھر اطالوی دارالحکومت روم میں مشتعل شائقین نے فیڈریشن کے ہیڈکوارٹر پر انڈے پھینکے، جس سے بین الاقوامی سطح پر ٹیم کی مسلسل ناکامیوں پر عوامی غم و غصے کا اظہار ہوتا ہے۔

دوسری جانب گریوینا نے اطالوی فٹ بال کو گہرے بحران کا شکار قرار دیتے ہوئے حکومت پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے دیگر کھیلوں کو ریاستی سرپرستی کا حامل اور نیم پیشہ ورانہ قرار دیا، جس پر ملک کے دیگر کھلاڑیوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ وزیر کھیل اینڈریا ابودی نے گریوینا کے ان ریمارکس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل تیسری بار ورلڈ کپ میں ناکامی کا ذمہ دار اداروں کو ٹھہرانا اور دیگر کھیلوں کی اہمیت کو کم کرنا ایک بڑی غلطی ہے۔

اطالوی حکومت اور فٹ بال فیڈریشن کے مابین جاری یہ تناؤ اور احتساب کا مطالبہ آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے، کیونکہ حکام اور اسٹیک ہولڈرز اب عالمی سطح پر اطالوی فٹ بال کی ساکھ بحال کرنے کے لیے اصلاحات پر غور کر رہے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -