چین نے مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ مطالبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران پر آئندہ چند ہفتوں میں شدید حملوں کی دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے۔
بیجنگ میں وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عسکری ذرائع سے مسائل کا حل ممکن نہیں ہے اور تنازعات میں شدت کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کریں۔
چین نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار بھی امریکہ اور اسرائیل کو قرار دیا ہے۔ ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں رکاوٹوں کی بنیادی وجہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی غیر قانونی فوجی کارروائیاں ہیں۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے تیل درآمد کرنے والے ممالک سے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے راستے کی حفاظت خود یقینی بنائیں اور اسے اپنے کنٹرول میں لے کر استعمال کریں۔
