-Advertisement-

پوپ لیو کا ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت ناقد کے طور پر ظہور

تازہ ترین

ایرانی جوہری پلانٹ سے عملے کے انخلا کیلئے روس کی امریکا اور اسرائیل سے جنگ بندی کی اپیل

ماسکو: روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے شہر بوشہر میں قائم جوہری بجلی گھر سے اپنے...
-Advertisement-

ویٹیکن سٹی میں پوپ لیو کا رویہ تبدیل ہو چکا ہے اور انہوں نے عالمی منظر نامے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے خلاف ایک اہم تنقیدی آواز اٹھائی ہے۔ پوپ لیو، جو گزشتہ مئی میں عالمی کیتھولک چرچ کے سربراہ بنے، اپنی مدت کے ابتدائی دس ماہ تک اپنے آبائی ملک امریکہ اور صدر ٹرمپ کے بارے میں عوامی سطح پر خاموش رہے، تاہم اب یہ پالیسی بدل گئی ہے۔

منگل کے روز پوپ لیو نے پہلی بار عوامی طور پر صدر ٹرمپ کا نام لے کر ان سے ایران کے ساتھ جاری تنازع کو ختم کرنے کی براہ راست اپیل کی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ لہجے میں نمایاں تبدیلی ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر ٹرمپ کی پالیسیوں کے لیے ایک توازن پیدا کرنا ہے۔ اطالوی ماہر تعلیم اور ویٹیکن کے امور پر گہری نظر رکھنے والے ماسیمو فاجیولی کے مطابق پوپ کا یہ اقدام اتفاقی نہیں بلکہ انتہائی سوچا سمجھا ہے، کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ویٹیکن پر ٹرمپ ازم کے حوالے سے نرم گوشہ رکھنے کا الزام لگے۔

پوپ نے ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے راستہ نکالیں، اس مقصد کے لیے انہوں نے امریکی اصطلاح آف ریمپ کا استعمال کیا تاکہ پیغام واضح طور پر سمجھا جا سکے۔ اس سے قبل پوپ لیو نے ایک سخت بیان میں کہا تھا کہ خدا ان رہنماؤں کی دعائیں مسترد کر دیتا ہے جو جنگ شروع کرتے ہیں اور جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوتے ہیں۔ ان ریمارکس کو امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کے خلاف تنقید سمجھا جا رہا ہے جنہوں نے ایران پر حملوں کے جواز میں مذہبی زبان کا استعمال کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے پوپ کے ریمارکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی قیادت یا صدر کا اپنے عوام سے فوجیوں کے لیے دعا کی اپیل کرنا غلط نہیں ہے۔ دوسری جانب کیتھولک امن تحریک کی سابق رہنما میری ڈینس کا کہنا ہے کہ پوپ کے حالیہ بیانات مسلسل تشدد سے ٹوٹے ہوئے دل کی عکاسی کرتے ہیں۔

پوپ لیو گزشتہ کئی ہفتوں سے ایران جنگ پر تنقید میں تیزی لا رہے ہیں۔ تیرہ مارچ کو انہوں نے کہا تھا کہ جنگ شروع کرنے والے عیسائی سیاسی رہنماؤں کو اعترافِ گناہ کرنا چاہیے، جبکہ تئیس مارچ کو انہوں نے فضائی حملوں کو اندھا دھند قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ ویٹیکن کے سینئر عہدیدار کارڈینل مائیکل زرنی کے مطابق پوپ کی آواز عالمی سطح پر وزن رکھتی ہے کیونکہ وہ مشترکہ مفاد اور کمزور طبقات کی ترجمانی کر رہے ہیں۔

پوپ لیو نے گزشتہ دسمبر میں امریکی کیتھولک قیادت میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے نیویارک کے آرچ بشپ کارڈینل ٹموتھی ڈولن کو ہٹا کر ان کی جگہ رونالڈ ہکس کو تعینات کیا تھا۔ اب سب کی نظریں ایسٹر کے موقع پر پوپ کے خصوصی پیغام پر ہیں، جس میں وہ دنیا بھر کے لیے ایک اہم بین الاقوامی اپیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -