-Advertisement-

کسی بھی زمینی حملے میں دشمن کا بچنا ناممکن ہے، ایرانی آرمی چیف کی سخت تنبیہ

تازہ ترین

ایرانی جوہری پلانٹ سے عملے کے انخلا کیلئے روس کی امریکا اور اسرائیل سے جنگ بندی کی اپیل

ماسکو: روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے شہر بوشہر میں قائم جوہری بجلی گھر سے اپنے...
-Advertisement-

ایرانی فوج کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر دشمن نے ملک کے خلاف کسی بھی قسم کی زمینی جارحیت کی تو کوئی بھی غیر ملکی فوجی زندہ نہیں بچے گا۔ کمانڈر ان چیف امیر حاتمی نے واضح کیا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی جارحانہ اقدام کا فیصلہ کن جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق امیر حاتمی نے عسکری قیادت کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آپریشنل ہیڈکوارٹرز کو ہدایت کی کہ دشمن کی نقل و حرکت پر انتہائی گہری نظر رکھی جائے اور فوری جوابی کارروائی کے لیے مستعد رہا جائے۔ انہوں نے کمانڈروں کو امریکہ اور اسرائیل کی سرگرمیوں کو ٹریک کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی زمینی حملے کا سامنا بھرپور قوت سے کیا جائے گا۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع اپنے اختتام کے قریب ہو سکتا ہے، تاہم دوسری جانب واشنگٹن کی جانب سے خلیج میں فوج کی اضافی تعیناتی سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات برقرار ہیں۔

خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے اسٹریٹجک میزائل، ڈرون اور فضائی دفاعی تنصیبات دشمن کی پہنچ سے دور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی عسکری پیداواری مراکز نامعلوم اور محفوظ مقامات پر واقع ہیں، جنہیں غیر ملکی افواج نشانہ نہیں بنا سکتیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان تنصیبات کو ہدف بنانے کی کوئی بھی کوشش دشمن کی غلط فہمی ہوگی کیونکہ جن مقامات کی نشاندہی مخالفین کر رہے ہیں، وہ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل نہیں ہیں۔

ذوالفقاری نے تنبیہ کی کہ تنازع اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دشمن کو ناقابل تلافی نقصانات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور انہیں پسپائی پر مجبور نہ کر دیا جائے۔ سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ فوٹیج میں امیر حاتمی کو اعلیٰ کمانڈروں کے ساتھ اجلاس کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، اگرچہ اس ویڈیو کے وقت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ ان سخت بیانات کو خطے میں جاری کشیدگی میں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران کسی بھی طویل عسکری تصادم کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -