-Advertisement-

آسٹریا کا ایران کیخلاف فوجی کارروائی کیلئے امریکی فضائی حدود کے استعمال کی درخواست مسترد

تازہ ترین

ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کا تصور محال ہے، خواجہ آصف کا بھارتی دھمکیوں پر سخت ردعمل

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارتی ہم منصب راج ناتھ سنگھ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے...
-Advertisement-

آسٹریا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی امریکی درخواست مسترد کر دی ہے۔ وزارت دفاع کے ترجمان نے جمعرات کے روز تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے متعدد بار فضائی حدود کے استعمال کی اجازت مانگی گئی تھی تاہم ملکی غیر جانبداری کے قانون کے تحت ہر درخواست کا جائزہ انفرادی بنیادوں پر لیا جا رہا ہے۔

آسٹریا کی جانب سے کسی بھی امریکی پرواز پر مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی ہے تاہم وزارت دفاع نے واضح کیا ہے کہ ہر کیس کا فیصلہ وزارت خارجہ کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ اس معاملے پر آسٹریا کی اپوزیشن جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی غیر جانبدارانہ پالیسی پر سختی سے قائم رہے۔

لوئر آسٹریا میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ سِون ہرگووچ کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع کلاڈیا ٹینر کو خلیجی خطے کی جانب جانے والی کسی بھی امریکی فوجی یا لاجسٹک پرواز کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسپین، فرانس، اٹلی اور سوئٹزرلینڈ کی طرح آسٹریا کو بھی اس تنازع سے دور رہنا چاہیے کیونکہ یہ جنگ عالمی امن اور آسٹریا کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس سے قبل اسپین نے بھی تنازع سے متعلق فوجی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں جبکہ اٹلی نے سسلی میں واقع اپنے اڈے پر امریکی طیاروں کو اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ 28 فروری سے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری فضائی حملوں میں اب تک سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت 1900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تہران کی جانب سے جوابی کارروائی میں ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے ہیں جن کا ہدف اسرائیل کے علاوہ اردن، عراق اور وہ خلیجی ممالک ہیں جہاں امریکی فوجی اثاثے موجود ہیں۔ ان حملوں کے باعث جانی و مالی نقصان کے ساتھ ساتھ عالمی منڈیوں اور ہوابازی کا نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -