امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو تباہ کر دیں گے۔ ایک سوشل میڈیا بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے ابھی ایران میں تباہی کا اصل کام شروع ہی نہیں کیا ہے اور اگلا ہدف وہاں کے پل اور بجلی کے پلانٹس ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت جانتی ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے اور یہ کام فوری طور پر کیا جانا چاہیے۔
بدھ کے روز ایک نشریاتی خطاب میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے واشنگٹن کی شرائط تسلیم نہ کیں تو جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے اور ایران کی توانائی اور تیل کی تنصیبات پر حملے کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگلے دو سے تین ہفتوں میں ایران کو انتہائی سخت حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور اسے پتھر کے دور میں دھکیل دیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکا کے درجنوں بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے ایک کھلے خط میں متنبہ کیا ہے کہ ایران پر امریکی حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 1949 کے جنیوا کنونشن کے تحت جنگ میں شہریوں کے لیے ضروری تنصیبات پر حملے ممنوع ہیں اور فریقین پر لازم ہے کہ وہ فوجی اور شہری اہداف میں فرق رکھیں۔
یہ جنگ 28 فروری کو اس وقت شروع ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے۔ اس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ مشترکہ امریکی و اسرائیلی حملوں اور لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس تنازع نے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کو بھی غیر مستحکم کر دیا ہے جبکہ ٹرمپ کے متضاد بیانات نے 2003 میں عراق پر حملے کے بعد سے امریکا کی سب سے بڑی فوجی مہم کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
