کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینیل نے دارالحکومت ہوانا میں امریکی پابندیوں کے خلاف نکالی گئی ریلی کی قیادت کی۔ جمعرات کے روز ہونے والے اس مظاہرے میں شرکاء نے بائیکس اور الیکٹرک ٹرائی سائیکلز پر سوار ہو کر ہوانا کے ساحلی روڈ مالیکون کا گشت کیا۔ اس احتجاج کا مقصد امریکہ کی جانب سے ایندھن کی فراہمی روکنے کی کوششوں کے خلاف اپنی مزاحمت کا اظہار کرنا تھا۔
حکومتی سرپرستی میں نکالی گئی اس کارواں میں شریک افراد نے ہوانا میں واقع امریکی سفارت خانے کے سامنے سے گزرتے ہوئے ایسے بینرز اور جھنڈے اٹھا رکھے تھے جن میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
یہ ریلی ایک ایسے وقت میں نکلی ہے جب واشنگٹن میں تعینات کیوبا کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے ایک روز قبل ہی امریکی حکومت کو کیوبا کی معاشی بحالی میں مدد کی پیشکش کی تھی۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔
ریلی میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کے حق میں ہیں لیکن انہیں اپنے ملک کے وقار پر کوئی سمجھوتہ منظور نہیں۔ قانون کی طالبہ شیلا اباتاؤ نے کہا کہ دونوں حکومتوں کے درمیان مخلصانہ مذاکرات ممکن ہیں، بشرطیکہ بین الاقوامی قوانین اور کیوبا کی خود مختاری کا احترام کیا جائے۔
صدر میگوئل ڈیاز کینیل نے اس موقع پر کوئی خطاب نہیں کیا۔ کیوبا کی حکومت اکثر امریکی سفارت خانے کے باہر بڑے پیمانے پر مظاہروں کا اہتمام کرتی رہی ہے، تاہم ایندھن کی شدید قلت کے باعث ٹرانسپورٹ کے نظام میں درپیش مشکلات کے پیش نظر یہ ریلی نسبتاً مختصر اور محدود رکھی گئی تھی۔
دریں اثناء کیوبا کو ایندھن کے بحران سے نکالنے کے لیے ایک روسی آئل ٹینکر رواں ہفتے بندرگاہ پہنچا ہے جس نے سات لاکھ بیرل خام تیل کی ترسیل کی ہے۔ امریکی انتظامیہ نے، جو کیوبا کو تیل فراہم کرنے والے ممالک پر پابندیوں کی دھمکی دے چکی ہے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس روسی ٹینکر کو ماتانزاس کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دینے کا دعویٰ کیا ہے۔
