-Advertisement-

امریکی عدالت نے بلیک لائیولی کی جسٹن بالڈونی کے خلاف جنسی ہراسانی کی درخواست مسترد کر دی

تازہ ترین

پاکستان کا علاقائی استحکام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مابین قریبی تعاون پر زور

پاکستان نے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں بڑھتے ہوئے بحرانوں سے نمٹنے اور خطے میں پائیدار امن کے...
-Advertisement-

امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے اداکارہ بلیک لائولی کی جانب سے اداکار اور ہدایت کار جسٹن بالڈونی کے خلاف دائر جنسی ہراسانی کے مقدمے کو خارج کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ 2024 کی رومانوی فلم اٹ اینڈز ود اس کی شوٹنگ کے دوران پیش آنے والے تنازعات کے بعد سامنے آیا ہے۔

امریکی ڈسٹرکٹ جج لیوس لیمن نے اپنے 152 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا کہ بلیک لائولی کے الزامات کا تعلق کردار سے تھا نہ کہ ذاتی طور پر ان کی ذات سے۔ جج کا کہنا تھا کہ تخلیقی فنکاروں کو اس بات کی آزادی ہونی چاہیے کہ وہ طے شدہ اسکرپٹ کے حدود کے اندر تجربات کر سکیں، بغیر اس خوف کے کہ انہیں جنسی ہراسانی کے قانونی الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بلیک لائولی کی وکیل ایسرا ہڈسن نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ بالڈونی نے اسکرپٹ سے ہٹ کر غیر ضروری جنسی مواد شامل کیا، جس میں ایک رقص کا منظر اور پیدائش کے منظر کے دوران لباس کی تبدیلی کا مطالبہ شامل تھا۔ تاہم عدالت نے ان الزامات کو جنسی ہراسانی کے زمرے میں لانے سے انکار کر دیا۔

جج نے واضح کیا کہ بلیک لائولی اب بھی اس بات پر مقدمہ آگے بڑھا سکتی ہیں کہ بالڈونی کی پروڈکشن کمپنی وے فیئر اسٹوڈیوز نے ان کے تحفظات کے اظہار کے بعد ان کے خلاف انتقامی کارروائی کی۔ عدالت اب یہ دیکھے گی کہ کیا مدعا علیہان نے بلیک لائولی کے کیریئر کو نقصان پہنچانے کے لیے کسی بدنامی مہم کا سہارا لیا۔

اس کیس کی سماعت 18 مئی کو شیڈول ہے۔ بلیک لائولی کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ عدالت میں گواہی دینے کے لیے تیار ہیں تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ سیٹ پر حفاظت کے لیے آواز اٹھانے پر ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا۔

دوسری جانب جسٹن بالڈونی کے وکلاء نے جنسی ہراسانی کے الزامات کے خارج ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ بالڈونی نے تمام تر الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے لائولی کے تحفظات کو فوری طور پر دور کیا تھا۔

بلیک لائولی نے دسمبر 2024 میں ہراسانی، ہتک عزت اور پرائیویسی کی خلاف ورزی کے تحت مقدمہ دائر کیا تھا۔ اس قانونی تنازعہ میں ٹیلر سوئفٹ، گیگی حدید اور ہیو جیک مین جیسی شخصیات کا ذکر بھی سامنے آیا ہے جن کے بارے میں لائولی کا دعویٰ ہے کہ وہ ان کے مؤقف کی تائید کر سکتے ہیں۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ وفاقی سول حقوق کے قانون کے تحت بلیک لائولی ان الزامات کو آگے نہیں بڑھا سکتیں کیونکہ وہ بطور آزاد کنٹریکٹر کام کر رہی تھیں، نہ کہ ملازم کے طور پر۔ اٹ اینڈز ود اس فلم نے ملے جلے جائزوں کے باوجود دنیا بھر میں 351 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کیا تھا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -