-Advertisement-

پاکستان کا علاقائی استحکام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مابین قریبی تعاون پر زور

تازہ ترین

پنجاب حکومت کا صوبے بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ مفت کرنے کا اعلان

حکومت پنجاب نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عالمی معاشی بحران کے پیش نظر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے...
-Advertisement-

پاکستان نے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں بڑھتے ہوئے بحرانوں سے نمٹنے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اقوام متحدہ اور لیگ آف عرب اسٹیٹس کے مابین تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال میں کثیر الجہتی اقدامات اور عالمی ادارے کے چارٹر کے تحت علاقائی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل عالمی امن اور سلامتی کی بنیادی ذمہ دار ہے، تاہم تنازعات کے حل اور ثالثی میں علاقائی تنظیمیں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

سفیر عاصم افتخار نے عرب لیگ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان عرب دنیا کے ساتھ اپنے تاریخی اور گہرے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور اہم تنصیبات پر حملے خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں، جس کے لیے اجتماعی سیکیورٹی کے میکانزم کو فعال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

فلسطین کے دیرینہ تنازع پر بات کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ فلسطینی عوام طویل عرصے سے غیر قانونی قبضے اور بنیادی حقوق سے محرومی کا شکار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 1967 سے قبل کی سرحدوں کے مطابق القدس الشریف کو دارالحکومت بنا کر ایک خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فلسطین، شام اور لبنان سمیت تمام عرب علاقوں سے اپنا غیر قانونی قبضہ ختم کرے۔

خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ ایران پر حملوں کے بعد خطہ ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ انہوں نے ہرمز آبنائے میں نقل و حمل کی پابندیوں اور خلیجی ممالک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فوری ترجیح دشمنی کا خاتمہ اور مذاکرات کی بحالی ہونی چاہیے۔

انہوں نے انسداد دہشت گردی، ماحولیاتی تبدیلیوں، سائبر سیکیورٹی اور غلط معلومات کے پھیلاؤ جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے درمیان گہرے روابط کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ عرب لیگ کو دیگر تنظیموں بشمول او آئی سی اور آسیان کے ساتھ بھی روابط بڑھانے چاہئیں۔ پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خطے میں امن و استحکام اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے لیے عرب لیگ اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -