وائٹ ہاؤس نے جمعہ کے روز امریکی قانون سازوں کو اخراجات کی ایک نئی تجویز ارسال کی ہے جس میں اگلے برس کے لیے ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ بھاری اضافہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق پینٹاگون کے اخراجات میں یہ اضافہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی سطح پر ہوگا تاہم صدارتی بجٹ محض ایک تجاویز کی فہرست ہے جس کی حتمی منظوری کانگریس سے درکار ہوگی۔
یہ تجویز سال 2026 کے لیے پینٹاگون کے بجٹ میں 42 فیصد اضافے کی متقاضی ہے۔ اس منصوبے کا ایک اہم حصہ غیر دفاعی اخراجات میں 73 ارب ڈالر یعنی 10 فیصد تک کٹوتی کرنا ہے تاکہ فضول اور غیر ضروری پروگراموں کو ختم کر کے ریاستی اور مقامی ذمہ داریوں کو متعلقہ حکومتوں کے سپرد کیا جا سکے۔ پینٹاگون کی جانب سے بجٹ کی تفصیلی تفصیلات اس ماہ کے آخر تک متوقع ہیں تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کانگریس نے اس منصوبے کی منظوری دی تو یہ اگلے ایک دہائی کے دوران وفاقی قرضوں میں ٹریلین ڈالر کا اضافہ کر سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے قانون سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس اضافے کا بڑا حصہ معمول کے سالانہ فنڈنگ عمل کے ذریعے منظور کریں جبکہ بقیہ 350 ارب ڈالر اسی طریقہ کار کے تحت منظور کرائے جائیں جس کے ذریعے گزشتہ برس ریپبلکنز نے ڈیموکریٹس کی حمایت کے بغیر ٹیکسوں میں کٹوتی کی تھی۔ صدر اور ان کے مشیروں نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے پیش نظر ہتھیاروں کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے اور فوجی وسائل میں ہنگامی اضافے پر زور دیا ہے۔
ایک نجی ظہرانے کے دوران صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ سماجی تحفظ کے پروگراموں اور دیگر امدادی اقدامات کے مقابلے میں دفاعی فنڈنگ کو اولیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈے کیئر، میڈیکیڈ اور میڈی کیئر جیسے معاملات کو ریاستی سطح پر چلایا جا سکتا ہے کیونکہ اس وقت اولین ترجیح ملکی دفاع ہے۔ وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کے ان ریمارکس کی ویڈیو یوٹیوب پر جاری کی تھی جسے بعد ازاں ہٹا دیا گیا۔
دوسری جانب ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں نے ہی صدر ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ فوجی اخراجات کی سطح پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ جاری پانچ ہفتوں طویل جنگ کے حوالے سے تاحال مناسب معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
