آسٹریلیا میں ایسٹر کی تعطیلات کے دوران سفری سرگرمیوں میں غیر معمولی کمی دیکھی جا رہی ہے جس کی بنیادی وجہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور عالمی سطح پر توانائی کے بحران ہیں۔ سڈنی سے تعلق رکھنے والی 66 سالہ ریٹائرڈ خاتون ایلسا اوکاک کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قلت اور مہنگائی کے باعث انہوں نے اپنے شوہر کے ہمراہ دیہی علاقوں کا سالانہ دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چھ سے سات گھنٹے کی ڈرائیونگ نہ صرف مہنگی ہے بلکہ وہ ایندھن ان لوگوں کے لیے بچانا چاہتی ہیں جنہیں اس کی زیادہ ضرورت ہے۔
رائے مورگن کی تحقیق کے مطابق سال 2025 میں ایسٹر کے دوران 45 لاکھ سے زائد افراد کے سفر متوقع تھا جس پر 11 اعشاریہ ایک ارب آسٹریلوی ڈالرز خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ تاہم 28 فروری کو ایران میں جنگ کے آغاز اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی نے عالمی توانائی کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے جس کے اثرات آسٹریلیا تک پہنچ چکے ہیں۔
آسٹریلیا اپنی ایندھن کی ضروریات کا تقریباً 90 فیصد درآمد کرتا ہے۔ حالیہ بحران کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں ایندھن کی قلت دیکھی گئی جبکہ قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا۔ گزشتہ ہفتے کے دوران ڈیزل کی قیمت 3 آسٹریلوی ڈالرز فی لیٹر اور پیٹرول کی قیمت ڈھائی آسٹریلوی ڈالرز فی لیٹر سے تجاوز کر گئی تھی، جس کے بعد حکومت کو قیمتیں کم کرنے کے لیے ٹیکسوں میں کٹوتی کرنا پڑی۔
ستائیس سالہ آرٹ ڈائریکٹر ریچل ایبٹ نے بھی مہنگی پروازوں اور پیٹرول کی قیمتوں کے باعث اپنے آبائی علاقے کے سفر کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔ دوسری جانب 59 سالہ امدادی کارکن سٹیو زوٹالس کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ ایسٹر پر گھر پر ہی رہنا پسند کرتی ہیں، تاہم موجودہ عالمی صورتحال کے پیش نظر انہیں جشن منانے میں ہچکچاہٹ محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث دنیا غیر مستحکم دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق ایک امدادی کارکن کی حیثیت سے وہ جانتی ہیں کہ تنازعات والے علاقوں میں لوگ بنیادی خوراک سے بھی محروم ہو رہے ہیں، جبکہ آسٹریلیا میں لوگ صرف تفریحی دوروں کی منسوخی پر پریشان ہیں۔
