اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے اپنے دورہ خلیج کے غیر اعلانیہ سلسلے کا آغاز سعودی عرب سے کر دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس دورے کا بنیادی مقصد قومی توانائی کی سکیورٹی کو مستحکم بنانا ہے۔
میلونی نے اپنے دورے کا آغاز بحیرہ احمر کے ساحلی شہر جدہ سے کیا۔ وہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد اس خطے کا دورہ کرنے والی یورپی یونین یا نیٹو کی پہلی سربراہ مملکت ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اطالوی وزیر اعظم سعودی عرب کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتیں کریں گی، جبکہ اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ وہ قطر اور متحدہ عرب امارات کے دورے پر بھی جائیں گی۔
یہ تینوں ممالک ایران کی جانب سے کیے جانے والے ڈرون اور میزائل حملوں کا ہدف بن چکے ہیں، جو کہ امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کے ردعمل میں کیے گئے تھے۔
اٹلی اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدات پر بڑی حد تک انحصار کرتا ہے اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث حکومتی حلقوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اطالوی حکومت نے پیٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی میں یکم مئی تک کٹوتی کر دی ہے۔
جارجیا میلونی نے 25 مارچ کو الجیریا کا دورہ بھی کیا تھا، جو پہلے ہی اٹلی کو تیس فیصد قدرتی گیس فراہم کرتا ہے، تاکہ گیس کی درآمدات میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔
میلونی کا شمار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریب ترین یورپی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ایرانی ناکہ بندی سے متاثرہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ صورتحال میں مداخلت کریں۔
جنگ سے قبل عالمی سطح پر سمندری راستے سے ہونے والی تیل کی تجارت کا ایک چوتھائی اور ایل این جی کی ترسیل کا بیس فیصد اسی اہم ترین تجارتی راستے سے گزرتا تھا۔
