بھارتی ریاست مغربی بنگال میں ووٹر لسٹوں میں مبینہ ردوبدل، جعل سازی اور منظم ہیرا پھیری کے خلاف عوامی غیض و غضب عروج پر پہنچ گیا ہے۔ انتخابات سے قبل بی جے پی حکومت کی جانب سے ووٹر فہرستوں میں مبینہ مداخلت کے خلاف شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا اور ان جوڈیشل افسران کا گھیراؤ کیا جو اس عمل میں سہولت کاری کے الزامات کی زد میں ہیں۔
بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی کے عمل کے دوران کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ضلع مالدہ میں مشتعل مظاہرین نے دفاتر کا محاصرہ کر لیا اور سات جوڈیشل افسران کو کئی گھنٹوں تک یرغمال بنائے رکھا۔
عوام کا مطالبہ ہے کہ انتخابی عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انتخابات سے قبل ووٹر لسٹوں سے ناموں کا اخراج ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس کا مقصد عوامی رائے کو دبانا ہے۔ جوڈیشل افسران کے خلاف عوامی کارروائی انتخابی عمل پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں ہونے والے یہ ہنگامہ خیز مظاہرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام مودی حکومت کے ہتھکنڈوں سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق مودی انتظامیہ کی زیر نگرانی ووٹر لسٹوں میں مبینہ ردوبدل عوامی رائے کو دبانے اور آمرانہ کنٹرول مسلط کرنے کی ایک براہ راست کوشش ہے۔
