-Advertisement-

ایران کا اسلام آباد سے مذاکرات سے انکار کا امریکی دعویٰ مسترد، پاکستان کا شکریہ ادا

تازہ ترین

پاکستان بھر میں 5 اپریل سے بارش اور آندھی کا امکان، محکمہ موسمیات کی وارننگ جاری

محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں پانچ سے نو اپریل کے دوران تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ...
-Advertisement-

ایران نے اسلام آباد میں مذاکرات سے انکار سے متعلق مغربی میڈیا کی رپورٹس کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر واضح کیا کہ تہران نے کبھی اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا اور وہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہر اس حل کے لیے تیار ہے جو پائیدار امن کی ضمانت دے سکے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے پیغام میں زور دیا کہ ان کی اولین ترجیح ملک پر مسلط کردہ غیر قانونی جنگ کا حتمی اور مستقل خاتمہ ہے۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے ثالثی کے کردار پر شکریہ ادا کیا اور اردو زبان میں پیغام لکھ کر دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے برادرانہ اقدام قرار دیا ہے۔ یہ پیشرفت وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملاقات سے انکار کر دیا ہے، تاہم تہران نے اس دعوے کو غلط بیانی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران نے بوشہر جوہری پاور پلانٹ کے قریب ہونے والے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزیر خارجہ عراقچی نے خبردار کیا کہ ان حملوں سے تابکاری کا خطرہ ہے جو خلیجی ممالک کے دارالحکومتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے پیٹرو کیمیکل تنصیبات پر حملوں کو بھی اسٹریٹجک اہداف کا حصہ قرار دیا۔

جنگ چھٹے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے جس کے دوران فضائی کارروائیوں اور سرحد پار حملوں میں تیزی آئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ ایران کی جانب سے دو امریکی طیاروں کو مار گرائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جبکہ ایرانی فورسز لاپتہ امریکی پائلٹ کی تلاش میں مصروف ہیں۔

جنگ کے اثرات خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیل رہے ہیں۔ دبئی میں فضائی مداخلت کے ملبے سے اوریکل کمپنی کی عمارت کو نقصان پہنچا جبکہ کویت میں بھی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور خطے میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایران نے ان حالات کے باوجود مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -