روس کی سرکاری جوہری کمپنی روس ایٹم نے ایران کے شہر بشہر میں واقع جوہری بجلی گھر سے اپنے مزید 198 ملازمین کو بحفاظت نکال لیا ہے۔ یہ انخلا ہفتے کے روز عمل میں لایا گیا۔ فروری کے اواخر میں ایران میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے روس ایٹم مسلسل اپنے عملے کو پلانٹ سے منتقل کر رہا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والا یہ انخلا پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا۔ اس سے قبل انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں تصدیق کی تھی کہ پلانٹ کے تحفظ پر مامور ایک اہلکار گولے کا ٹکڑا لگنے سے ہلاک ہو گیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق دھماکے کی لہروں اور گولے کے ٹکڑوں سے پلانٹ کی ایک عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
روس ایٹم کے سربراہ الیکسی لیخاچیو نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری پلانٹ کے ارد گرد پیش آنے والے واقعات بدترین خدشات کے مطابق رونما ہو رہے ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والا اہلکار ایرانی شہری تھا۔
روسی خبر رساں ادارے ٹاس کے مطابق الیکسی لیخاچیو نے بتایا کہ روس ایٹم کی جانب سے صدر ولادیمیر پیوٹن کو بشہر جوہری پلانٹ کی موجودہ صورتحال سے باقاعدہ آگاہ کر دیا گیا ہے۔
