تہران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے بعد اہم اشیاء لے جانے والے بحری جہازوں کے لیے راہداری کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق حکام نے ایک مراسلے میں کہا ہے کہ خلیج عمان میں موجود اور ایرانی بندرگاہوں کی جانب گامزن جہازوں کو آبنائے سے گزرنے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کرنا ہوگا اور طے شدہ ضوابط کی مکمل پاسداری کرنی ہوگی۔
ایران نے یہ اقدام 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں اٹھایا ہے جس کے نتیجے میں دنیا کی کل تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ متاثر ہوا ہے۔
اس صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے پاس اپنے رویے میں تبدیلی لانے کے لیے صرف 48 گھنٹے باقی ہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے پہلے ہی 10 دن کی مہلت دی تھی جو اب ختم ہو رہی ہے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر مقررہ وقت کے اندر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو ایران کو شدید نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے راستہ نہ کھولا تو اسے ہولناک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایک الگ بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگی طیارے کے گرائے جانے کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مذاکرات کے عمل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو حالت جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران ایسے واقعات معمول کا حصہ ہیں اور یہ سفارتی کوششوں کو پٹری سے نہیں اتار سکتے۔
