-Advertisement-

تل ابیب میں ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے مظاہرہ، اسرائیلی شہریوں کا بمباری نہ کرنے کا مطالبہ

تازہ ترین

پاکستان کی امن ثالثی کی عالمی سطح پر پذیرائی ہو رہی ہے، وزیر مملکت

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان...
-Advertisement-

تل ابیب میں ہفتے کے روز سینکڑوں اسرائیلی شہریوں نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف نعرے بازی کی اور ہاتھوں میں جنگ مخالف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل اور لامتناہی جنگ کے خاتمے کے مطالبات درج تھے۔

حکومت کی جانب سے جنگی صورتحال کے پیش نظر عوامی اجتماعات پر عائد پابندیوں کے باوجود مظاہرین شہر کے مرکزی چوک میں جمع ہوئے۔ اسرائیل اور فلسطین کے مشترکہ گروپ سٹینڈنگ ٹوگیدر کے شریک ڈائریکٹر ایلون لی گرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس ہماری آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایلون لی گرین نے مزید کہا کہ ہم ایران، لبنان اور غزہ میں جاری جنگوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں، اس کے ساتھ ہی ویسٹ بینک میں ہونے والے مظالم کو بھی روکا جائے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر اسرائیل میں ہمیں احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی تو ہم کبھی اپنی بات نہیں کہہ سکیں گے۔

مظاہرے میں شریک 62 سالہ سیسیل نامی خاتون نے حکومتی جنگی جواز پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو ذاتی مفادات کے لیے جنگ کو طول دے رہے ہیں تاکہ اپنے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمات سے توجہ ہٹا سکیں اور صدارتی معافی حاصل کر سکیں۔

ادھر ایران کی جانب سے گزشتہ رات سے تل ابیب سمیت اسرائیل کے وسطی علاقوں میں میزائلوں کی متعدد لہریں داغی گئی ہیں۔ اسرائیلی طبی حکام کے مطابق میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ 28 فروری سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جس کے بعد سے ایران کی جانب سے اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کو روزانہ میزائلوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے مقاصد اور کامیابی کا معیار غیر واضح ہے جس سے خطے کا مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -