نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارت نے سات برس کے طویل وقفے کے بعد ایران سے توانائی کی درآمدات دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ بھارتی وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس کی جانب سے جاری کردہ تصدیق کے مطابق نئی دہلی نے ایران سے خام تیل اور مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی خریداری کا عمل شروع کر دیا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت کے تحت بھارت نے ایران سے 44 ہزار میٹرک ٹن ایل پی جی درآمد کی ہے۔ یہ کھیپ ایک منظور شدہ آئل ٹینکر کے ذریعے منگلور کی بندرگاہ پر پہنچ چکی ہے جو دونوں ممالک کے مابین توانائی کے تجارتی تعلقات کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
بھارت نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں عائد کردہ امریکی پابندیوں کے بعد 2019 میں ایران سے تیل کی درآمدات مکمل طور پر بند کر دی تھیں۔ تاہم اب عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سپلائی کے بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل کی مصنوعات پر عارضی پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے جس سے بھارت کو دوبارہ درآمدات شروع کرنے کا موقع ملا ہے۔
بھارتی وزارت توانائی کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں خام تیل کی ضروریات کو مکمل طور پر پورا کیا جا رہا ہے اور ایرانی درآمدات کی ادائیگی کے سلسلے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ موجود نہیں ہے۔
