امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے پاس اب صرف 48 گھنٹے باقی ہیں جس کے بعد اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے ایران کو اسٹریٹجک اہمیت کے حامل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور معاہدے تک پہنچنے کے لیے پہلے 10 دن کی مہلت دی تھی تاہم اب وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
امریکی صدر نے دھمکی دی ہے کہ اگر مقررہ وقت میں کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو ایران کو شدید انتقامی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایک الگ بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایک لڑاکا طیارے کے گرائے جانے کی اطلاعات کا جاری مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو جنگی کیفیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات تنازع کا حصہ ہوتے ہیں اور یہ سفارتی کوششوں کو پٹری سے نہیں اتار سکتے۔
لاپتہ عملے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اگر کسی اہلکار کو نقصان پہنچنے کی تصدیق ہوئی تو امریکہ کیا ردعمل دے گا، اس مرحلے پر مزید کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
دوسری جانب ایران نے ان مغربی میڈیا رپورٹس کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ تہران نے اسلام آباد میں مذاکرات میں شرکت سے انکار کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے کبھی بھی اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا اور وہ تنازع کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ تہران کی اولین ترجیح ایسی شرائط کا حصول ہے جو ملک پر مسلط کردہ غیر قانونی جنگ کا مکمل اور مستقل خاتمہ یقینی بنا سکے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ ایران کسی بھی ایسے حل کے لیے تیار ہے جو دشمنی کے خاتمے کی ضمانت دے سکے۔
