-Advertisement-

وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایچ-1 بی ویزا فیس میں اضافہ، عالمی ٹیلنٹ کے حصول میں رکاوٹ

تازہ ترین

ایران: امریکی اور اسرائیلی حملوں میں پیٹرو کیمیکل پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف مقامات پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں...
-Advertisement-

بھارت کے شہر حیدرآباد کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے جہاں گوگل اور فیس بک جیسی عالمی کمپنیاں اپنے دفاتر قائم کیے ہوئے ہیں۔ شہر کی اس ترقی کے باعث اسے سائبر آباد کا نام بھی دیا گیا ہے۔ یہاں کام کرنے والے راجیش جکنالی، جو دس برسوں سے ایک امریکی ٹیک کمپنی سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کا واحد مقصد اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے امریکہ منتقل ہونے کا موقع حاصل کرنا تھا۔

تاہم ستمبر 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایچ ون بی ویزا کی نئی درخواستوں پر ایک لاکھ ڈالر کی فیس عائد کرنے کے فیصلے نے بھارتی آئی ٹی ماہرین کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ اس اقدام سے امریکی ملازمتوں کا تحفظ ممکن ہوگا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اس ویزا کی فیس 1700 سے 4500 ڈالر کے درمیان تھی۔

ایمیزون میں ملازمت کرنے والے حمید عبدل نے بتایا کہ اس حکومتی فیصلے سے وہ شدید مایوس ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی آجر کسی ورکر کے لیے ایک لاکھ ڈالر اضافی فیس ادا کرنے کو تیار نہیں ہوگا، جس کے بعد انہوں نے اب کینیڈا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

امیگریشن ایجنسی وائی ایکسس کے بانی زیویئر فرنینڈس کے مطابق یہ فیصلہ امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کی آئی ٹی انڈسٹری کو ایندھن فراہم کرنے والی افرادی قوت کا بڑا حصہ بھارت سے جاتا ہے اور حیدرآباد ٹیکنالوجی کے ماہرین کی نرسری ہے۔ امریکی امیگریشن حکام کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں ایچ ون بی ویزا ہولڈرز میں 70 فیصد سے زائد کا تعلق بھارت سے تھا۔

زیویئر فرنینڈس کا مزید کہنا ہے کہ جدید صنعتوں کو چلانے کے لیے انسانی ذہانت ایک ایندھن کی حیثیت رکھتی ہے اور ایسی صلاحیت مقامی سطح پر پیدا کرنا ممکن نہیں ہے۔ اگرچہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ نومبر میں ایک انٹرویو کے دوران اعتراف کیا تھا کہ امریکہ کو باہر سے باصلاحیت افراد لانے کی ضرورت ہے، تاہم نئی ویزا پالیسی نے اس عمل کو مشکل بنا دیا ہے۔

اس صورتحال کے پیش نظر اب بہت سے بھارتی ماہرین اپنے ملک میں ہی رہ کر کام کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ کینیڈا، چین اور آسٹریلیا جیسے ممالک ہنر مند افراد کو راغب کرنے کے لیے اپنی ویزا پالیسیوں کو آسان بنا رہے ہیں۔ راجیش جکنالی نے بھی تصدیق کی ہے کہ اب وہ آسٹریلیا جانے کے لیے درخواست دے رہے ہیں کیونکہ وہاں کا عمل انتہائی سادہ ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس پالیسی سے امریکی جدت طرازی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -