-Advertisement-

پوپ فرانسس کا مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے سائے میں پہلے ایسٹر کا پیغام، امن و اتحاد پر زور

تازہ ترین

برطانوی شاہی خاندان کی ایسٹر سروس میں شرکت، شہزادہ اینڈریو اور ان کا خاندان غیر حاضر

برطانیہ کے بادشاہ چارلس اور ملکہ کمیلا نے ونڈسر کیسل میں ایسٹر کی روایتی مذہبی تقریب میں شرکت کی۔...
-Advertisement-

ویٹیکن سٹی میں پوپ لیو چہار دہم پہلی بار بطور پونٹف ایسٹر سنڈے کی تقریبات کی قیادت کریں گے، تاہم مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے سائے ان تقریبات پر گہرے چھائے ہوئے ہیں۔ امریکی نژاد پوپ، جو اس جنگ کے خلاف ایک توانا آواز بن کر ابھرے ہیں، سینٹ پیٹرز اسکوائر میں ہزاروں عقیدت مندوں کے سامنے خصوصی دعائیہ تقریب منعقد کریں گے۔ اس کے بعد وہ روایتی برکت کا اعلان کریں گے جس پر عالمی سطح پر گہری نظریں ہیں۔ یہ تقریب آنجہانی پوپ فرانسس کی یادیں بھی تازہ کرے گی، جن کی گزشتہ سال ایسٹر کے موقع پر آخری عوامی شرکت کے چند گھنٹوں بعد انتقال ہو گیا تھا۔

ہفتے کے روز ایسٹر ویجل سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو چہار دہم نے امن اور اتحاد پر مبنی نئی دنیا کے قیام کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے جنگ، ناانصافی اور اقوام کے مابین پیدا ہونے والی دوریوں کی شدید مذمت کی۔ پوپ نے حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے راستہ تلاش کریں۔

مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث اس سال ایسٹر کی خوشیاں ماند پڑ گئی ہیں۔ یروشلم کے قدیم شہر سے لے کر لبنان کے ان مسیحی دیہات تک، جو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری لڑائی کی زد میں ہیں، صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ یروشلم میں واقع چرچ آف دی ہولی سیپلچر، جسے مسیحی برادری حضرت عیسیٰ کے دوبارہ زندہ ہونے کا مقام مانتی ہے، سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بند کر دیا گیا ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کے بعد سے اسرائیل نے بڑے اجتماعات پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

یروشلم کے رہائشی 52 سالہ جیک اسٹر نے بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار ہولی سیپلچر کو مکمل طور پر بند دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے کیونکہ یہ مقام مسیحی تاریخ کے اہم ترین واقعے کی علامت ہے۔ یروشلم کے لاطینی پیٹریاک کارڈینل پیئر بیٹسٹا پیزابالا نے اپنے خطبے میں کہا کہ چرچ کے دروازے بند ہیں اور خاموشی کا راج ہے، جسے صرف جنگ کے ہولناک اثرات کی آوازیں ہی توڑ رہی ہیں۔

لبنان کے جنوبی علاقوں میں بھی مسیحی برادری شدید خوف و ہراس کے عالم میں ہے۔ ڈیبیل گاؤں کے رہائشی جوزف عطیہ نے بتایا کہ گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ گزشتہ رات سے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں تھما۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال انتہائی المناک ہے، لوگ خوفزدہ ہیں اور انہیں صرف خدا کی ذات سے امید کی کرن نظر آتی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -