روس کے بحیرہ بالٹک میں واقع بندرگاہ پرائمورسک میں ایندھن کا اخراج ہوا ہے جبکہ نوزنی نووگوروڈ ریجن میں واقع نورسی آئل ریفائنری ڈرون حملے کے بعد شدید آگ کی لپیٹ میں آ گئی ہے۔ روسی حکام کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ بیان میں ان واقعات کی تصدیق کی گئی ہے۔
یوکرین کی جانب سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران روسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں تیزی لائی گئی ہے جس کا مقصد روس کی آمدنی کے اہم ذرائع کو نقصان پہنچا کر اس کی عسکری طاقت کو کمزور کرنا ہے۔
شمال مغربی لینن گراڈ ریجن کے گورنر الیگزینڈر ڈروزڈینکو نے ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ روس کی اہم ترین تیل برآمد کرنے والی بندرگاہ پرائمورسک میں پائپ لائن کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم بعد ازاں انہوں نے ٹیلی گرام پر وضاحت کی کہ پائپ لائن محفوظ ہے اور بندرگاہ کے علاقے میں موجود ایندھن کا ایک ذخیرہ ڈرون حملے کے بعد گرنے والے ملبے سے متاثر ہوا جس سے ایندھن کا اخراج شروع ہو گیا۔
امریکی کمرشل سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق پرائمورسک جو روزانہ دس لاکھ بیرل تیل برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، گزشتہ ماہ یوکرینی ڈرون حملوں کے نتیجے میں اپنی چالیس فیصد اسٹوریج تنصیبات سے محروم ہو چکی ہے۔ مجموعی طور پر گزشتہ ماہ حملوں، یوکرین میں پائپ لائن کی بندش اور روس سے منسلک ٹینکرز کی ضبطی کے باعث روس کی تیل برآمد کرنے کی صلاحیت کا چالیس فیصد حصہ متاثر رہا۔
اتوار کے روز ہی نوزنی نووگوروڈ ریجن کے گورنر گلیب نکیتن نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ روس کی چوتھی بڑی نورسی آئل ریفائنری ڈرون حملے کا نشانہ بنی جس کے بعد وہاں آگ بھڑک اٹھی۔ حملے میں پلانٹ کی دو تنصیبات کو نقصان پہنچا اور ایک پاور اسٹیشن سمیت متعدد مکانات بھی متاثر ہوئے تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
نورسی ریفائنری روس میں گیسولین پیدا کرنے والی دوسری بڑی تنصیب ہے جو سالانہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ میٹرک ٹن یا روزانہ تین لاکھ بیس ہزار بیرل تیل پروسیس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ادھر بحیرہ اسود پر واقع روس کی سب سے بڑی بندرگاہ نووروسیسک کے میئر آندرے کریچینکو نے بتایا کہ ڈرون حملے کے خطرے کے پیش نظر شہر میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ایسے الرٹ کے دوران قازقستان کا تیل برآمد کرنے والے کنسورشیم سمیت دیگر ٹرمینلز پر تیل کی لوڈنگ کا عمل معطل کر دیا جاتا ہے۔
