ماسکو نے ایران اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ دھمکی آمیز لہجہ ترک کر کے معاملات کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔
روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ موقف روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کے بعد سامنے آیا ہے۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت ہر سطح پر ایسے اقدامات سے گریز پر زور دیا جو بحران کے پرامن حل کے لیے باقی ماندہ سفارتی مواقع کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ماسکو نے واضح کیا کہ خطے میں دیرپا استحکام کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ الٹی میٹم دینے کی پالیسی ختم کرے۔ روس کا ماننا ہے کہ کشیدگی میں کمی صرف تعمیری مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی دھمکیاں دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے آبنائے ہرمز نہ کھولی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران میں کلیدی تنصیبات بشمول پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر نے ایران کو معاہدے کے لیے 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اگر کوئی سمجھوتہ طے نہ پایا تو ایران کو جہنم جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس سے قبل چین نے بھی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے روس کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
