-Advertisement-

ایران سے معاہدہ ممکن ہے، آبنائے ہرمز بند رہی تو پاور پلانٹس پر حملے کریں گے: ٹرمپ

تازہ ترین

یوکرینی صدر زیلنسکی کا دورہ شام، صدر شامی سے ملاقات کا امکان

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے شام کا غیر متوقع دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے اپنے شامی ہم...
-Advertisement-

واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ ایران کے ساتھ پیر تک معاہدہ ممکن ہے اور تہران اس سلسلے میں مذاکرات کر رہا ہے۔ فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے ایران کو انتباہ کیا کہ اگر آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا گیا تو تہران کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں دھمکی دی کہ منگل کا دن ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں پر حملوں کا دن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے پر بیک وقت مربوط حملے کیے جائیں گے۔ اس سے قبل بھی امریکی صدر ایران کو 48 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کر چکے ہیں کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کو پتھر کے دور میں دھکیلا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران کے پاسداران انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے اصفہان کے جنوب میں ایک امریکی سی 130 طیارہ مار گرایا ہے۔ خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران امریکی سی 130 ٹرانسپورٹ طیارے کے علاوہ دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر بھی تباہ کیے گئے ہیں۔ ایرانی فوج نے اسی صوبے میں ایک اسرائیلی ڈرون مار گرانے کا بھی دعوی کیا ہے۔

امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان کی اسپیشل فورسز نے ایک انتہائی مشکل سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے ذریعے دشمن کے علاقے سے اپنے ایک زخمی ایئر مین کو بحفاظت نکال لیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس آپریشن کو امریکی تاریخ کا جرات مندانہ ترین مشن قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بازیاب ہونے والا افسر ایف 15 طیارے کا ویپن سسٹم آفیسر تھا جو اب خطرے سے باہر ہے۔

خطے میں کشیدگی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر پاکستان سمیت کئی ممالک جنگ بندی اور تناؤ میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ادھر روس نے بھی امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے معاملے پر دھمکی آمیز لہجہ ترک کرے۔ اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور جنگ کا چھٹا ہفتہ جاری ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -