-Advertisement-

ایران کا ٹرمپ کی دھمکیوں کو جنگی جرائم پر اکسانے کے مترادف قرار

تازہ ترین

اسپین کا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم، کشیدگی کے ذمہ داروں پر تنقید

ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم...
-Advertisement-

تہران کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کو مجرمانہ ذہنیت کا عکاس قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دراصل جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر اکسانے کے مترادف ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی مہلت میں ایک دن کی توسیع کرتے ہوئے اسے منگل کی رات آٹھ بجے تک کا وقت دیا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغامات میں واضح کیا ہے کہ اگر ایران نے ڈیڈ لائن تک آبنائے ہرمز نہ کھولی تو ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ مشیروں اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران کے توانائی کے مراکز اور مواصلاتی رابطوں کو جائز فوجی اہداف قرار دے رہی ہے تاکہ ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو کمزور کیا جا سکے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو خطے کو نہ ختم ہونے والی جنگ میں دھکیلنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ایرانی مشن کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کا بیان شہریوں کو خوفزدہ کرنے اور جنگی جرائم کے ارتکاب کے واضح ارادے کا ثبوت ہے۔ عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ان جارحانہ اقدامات کو روکنے کے لیے فوری طور پر اپنا قانونی کردار ادا کرے۔

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات امریکہ کو ایک زندہ جہنم میں دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کے احکامات پر عمل پیرا ہو کر خطے کو آگ میں جھونکنے سے امریکہ کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ 28 فروری سے جاری امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز کو غیر دوست ممالک کے لیے بند کر رکھا ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی اور مذاکرات کی ناکامی کے باعث خطے میں جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -