-Advertisement-

پاکستان، ترکی اور مصر کی ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی کوششیں جاری

تازہ ترین

حماس کے عسکری ونگ کا ہتھیاروں کی منتقلی یا تخفیف کا مطالبہ مسترد

حماس کے عسکری ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں...
-Advertisement-

نیویارک میں موجود سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں تاہم ہفتے کے آخر میں ہونے والی ان کوششوں کے تاحال کوئی ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہو سکے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ الگ الگ ٹیلی فونک رابطے کیے لیکن کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا عمل پاکستان، مصر اور ترکی کے ثالثوں کے علاوہ ٹرمپ کے مشیروں اور عباس عراقچی کے درمیان براہ راست پیغامات کے تبادلے کے ذریعے بھی جاری ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا موقف ہے کہ یہ رابطے باقاعدہ مذاکرات نہیں بلکہ صرف پیغامات کا تبادلہ ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے اپنے مطالبات میں نرمی لانے سے انکار کر دیا ہے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے عارضی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ عباس عراقچی نے منگل کے روز واضح کیا تھا کہ ایران جنگ بندی کا خواہشمند نہیں بلکہ خطے میں جاری جنگ کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے۔

ثالث اس کوشش میں ہیں کہ اعتماد سازی کے ایسے اقدامات پر اتفاق ہو سکے جو ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں۔ امریکی صدر نے منگل کی شام تک کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو ایران کے تمام پاور پلانٹس اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ اٹھائیس فروری سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت تیرہ سو چالیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں حملے کیے ہیں اور آبنائے ہرمز میں نقل و حمل کو محدود کر دیا ہے جس سے یومیہ دو کروڑ بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہوئی اور عالمی منڈیوں میں شدید ہلچل پیدا ہوئی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -