-Advertisement-

ایران کو دھمکی: امریکی قانون سازوں کی ٹرمپ کی ذہنی صحت پر تشویش

تازہ ترین

امریکی کمانڈوز کا ایرانی حدود میں داخل ہو کر اپنے پائلٹ کو بازیاب کرانے کا دعویٰ

امریکی کمانڈوز نے ایرانی حدود میں گہرائی تک خفیہ آپریشن کرتے ہوئے اپنے ایک لاپتہ فضائی اہلکار کو بحفاظت...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد امریکی سیاسی حلقوں میں شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک جارحانہ بیان میں کہا کہ منگل کا دن ایران کے لیے پاور پلانٹ اور پلوں کے تباہ ہونے کا دن ہوگا، جس کے بعد سے ان کی ذہنی کیفیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ دھمکیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن قریب ہے۔ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فوجی کارروائی کے بعد سے یہ اہم تجارتی راستہ بند ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ ٹرمپ نے اس معاملے پر یورپی اور نیٹو اتحادیوں کی جانب سے حمایت نہ ملنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کے نیٹو سے انخلا کی دھمکی بھی دی ہے۔

ایرانی صدر کے دفتر کے سینئر مواصلاتی عہدیدار مہدی طباطبائی نے ٹرمپ کے بیان کو مایوسی اور غصے کا اظہار قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو تب ہی کھولے گا جب جنگی نقصانات کا معاوضہ ادا کیا جائے گا اور ٹرانزٹ فیس پر مبنی ایک نیا قانونی نظام وضع کیا جائے گا۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کی رکن مارجوری ٹیلر گرین نے ٹرمپ کے بیان کو شیطانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکی عوام کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شہری تنصیبات پر حملے کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔ دوسری جانب سینیٹ میں اقلیتی رہنما چک شومر نے ٹرمپ کے بیان کو ایک غیر متوازن شخص کی بڑبولا پن قرار دیا، جبکہ سینیٹر برنی سینڈرز نے اسے انتہائی خطرناک اور ذہنی توازن سے عاری بیان قرار دیتے ہوئے کانگریس سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

سینیٹر کرس مرفی نے ٹرمپ کو عہدے کے لیے غیر موزوں قرار دینے کے حوالے سے پچیسویں ترمیم پر بحث کا عندیہ دیا ہے۔ نمائندہ رو کھنہ نے صدر کے لہجے کو جنگی جرائم کی دھمکی قرار دیا اور فوری جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دیا۔ سینیٹر ٹم کین نے اس زبان کو مضحکہ خیز اور بچگانہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ بیان امریکی فوجیوں کے لیے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ میرین کور کے سابق اہلکار اور رکن کانگریس جیک آکلوس نے کہا کہ سٹریٹجک لحاظ سے یہ جنگ مکمل ناکامی ثابت ہوئی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول اب بھی ایران کے پاس ہے جو جوہری عزائم سے زیادہ اہم معاملہ ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -