متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی معاہدے کے لیے آبنائے ہرمز تک رسائی کی ضمانت لازمی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی سمجھوتے میں ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل و ڈرون ٹیکنالوجی کو محدود نہ کیا گیا تو اس سے مشرق وسطیٰ مزید خطرناک اور غیر مستحکم ہو جائے گا۔
ایک بریفنگ کے دوران انور قرقاش نے کہا کہ دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس گزرگاہ کی سیکیورٹی کسی علاقائی سودے بازی کا حصہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے اور کسی بھی ملک کو اسے یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل تنصیبات کے خلاف پانچ ہفتوں سے جاری حملوں کے تناظر میں انور قرقاش نے کہا کہ متحدہ عرب امارات جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے لیکن ایسی جنگ بندی کا حامی نہیں جو خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجوہات کو حل نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مزید کشیدگی نہیں چاہیے مگر ایسی جنگ بندی بھی قبول نہیں جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور ڈرون و میزائل حملوں کے خطرات برقرار رہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر منگل تک ایران نے معاہدہ نہ کیا اور آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو تہران کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی صدر نے ایران کے توانائی اور نقل و حمل کے انفراسٹرکچر کو مزید نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے مشیر نے واضح کیا کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے امریکہ کی قیادت میں کسی بھی بین الاقوامی کوشش کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ایران کے حملوں کی وجہ سے عالمی توانائی کے بحران نے جنم لیا ہے کیونکہ دنیا کی پانچویں حصہ تیل اور گیس کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔
انور قرقاش نے کہا کہ ایران کے حالیہ حملوں نے خطے میں سیکیورٹی کے منظر نامے کو تبدیل کر دیا ہے اور متحدہ عرب امارات امریکہ کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ابوظہبی ایران کے ساتھ دشمنی کا خواہاں نہیں لیکن موجودہ تہران حکومت کے ہوتے ہوئے اعتماد کا قیام ناممکن ہے۔ انہوں نے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے میں امریکہ کی حمایت کو سراہا اور فرانس کو بھی ایک مستحکم شراکت دار قرار دیا۔
