-Advertisement-

ایران تنازعہ ختم کرانے کے پاکستانی منصوبے پر دفتر خارجہ کی خاموشی برقرار

تازہ ترین

امریکی پائلٹ کی بازیابی: صدر ٹرمپ آج وائٹ ہاؤس میں اہم پریس کانفرنس کریں گے

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کی دوپہر ایک بجے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کریں...
-Advertisement-

پاکستان نے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے کسی بھی مجوزہ فریم ورک کی باضابطہ تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ سفارتی کوششیں جاری ہیں تاہم وہ مخصوص تجاویز پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 45 روزہ جنگ بندی یا 15 نکاتی منصوبے سے متعلق میڈیا میں گردش کرنے والی رپورٹس پر فی الحال کوئی موقف نہیں دیا جا سکتا۔

عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پاکستان نے پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کو ایک مربوط فریم ورک پیش کیا ہے۔ اسلام آباد اس معاملے پر محتاط انداز اپنائے ہوئے ہے تاکہ امریکہ اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کا کردار ایک سہولت کار کا ہے جو تمام فریقین کے ساتھ رابطے میں رہ کر خطے میں کشیدگی کم کرنے کا خواہاں ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہیں ثالثوں کے ذریعے ایک تجویز موصول ہوئی ہے جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بیرونی دباؤ یا طے شدہ ٹائم لائن کو قبول نہیں کرے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران اپنے قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو عارضی جنگ بندی کے عوض کھولنے کی کسی بھی تجویز کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں کسی بھی تعطل کے عالمی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اشارہ دیا ہے کہ تہران اسلام آباد میں مذاکرات کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرتا، جو پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنازع کے فوری حل پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد جنگ بندی نہ ہوئی تو ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے فوجی کارروائی کی دھمکیوں پر تہران نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اس نازک صورتحال میں پاکستان ایک مشکل سفارتی امتحان سے گزر رہا ہے جہاں وہ خود کو تنازع کا حصہ بنائے بغیر خطے میں امن اور استحکام کے لیے کوشاں ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -