صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ اس میڈیا ادارے کو جیل بھجوانے کے لیے قانونی کارروائی کریں گے جس نے ایران میں امریکی لڑاکا طیارہ گرائے جانے کے بعد دوسرے لاپتہ پائلٹ کی خبر نشر کی تھی۔ وائٹ ہاؤس میں وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین ڈین کین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ دونوں اہلکاروں کو پیچیدہ اور انتہائی خطرناک آپریشنز کے ذریعے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق طیارہ گرنے کے کچھ گھنٹوں بعد پائلٹ کو بچا لیا گیا تھا تاہم دوسرا اہلکار اتوار کی صبح تک ایرانی حدود میں پھنسا رہا جس کے بعد امریکی فورسز نے اسے بازیاب کرایا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے دوسرے اہلکار کی گمشدگی کی تفصیلات اس لیے خفیہ رکھی تھیں تاکہ اسے دشمن کے قبضے یا ہلاکت سے بچایا جا سکے۔
صدر نے خبردار کیا کہ وہ اس میڈیا ادارے تک پہنچیں گے جس نے یہ معلومات لیک کیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے متعلقہ ادارے سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اپنے ذرائع ظاہر کرے بصورت دیگر ذمہ داران کو جیل کی ہوا کھانی پڑے گی۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ انتظامیہ لیک کرنے والوں کا سراغ لگائے گی اور میڈیا پر دباؤ ڈالے گی تاکہ انٹیلیجنس ذرائع کا پتا چل سکے۔
ادھر سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹ کلف نے انکشاف کیا کہ امریکی انٹیلیجنس نے ایرانی حکام کو گمراہ کرنے کے لیے ایک خصوصی مہم چلائی تھی۔ جان ریٹ کلف نے بتایا کہ سی آئی اے نے ایرانیوں کو الجھانے کے لیے دھوکہ دہی کی حکمت عملی اپنائی جو امریکی اہلکاروں کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک اہلکار بچاؤ کارروائی تک پہاڑی دراڑ میں چھپا رہا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے تاحال اس میڈیا ادارے کا نام نہیں بتایا گیا جس نے سب سے پہلے اس معاملے کی رپورٹنگ کی تھی۔
